کیا امریکہ اپنے صدر پر لگام لگا سکتا ہے؟… اشوک سوین

فضائی طاقت بنیادی ڈھانچے کو تباہ تو کر سکتی ہے، لیکن ایران جیسے وسیع و عریض اور خود دار ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ کی فائل تصویر</p></div>
i

ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ دوبارہ شروع کر دی ہے، لیکن اس بنیادی سوال کا جواب اب بھی نہیں دیا گیا ہے کہ آخر امریکی فوجی کارروائی کس سیاسی نتیجے کی خواہش رکھتی ہے؟ اس کا جواب پہلا بم گرنے سے پہلے ہی مل جانا چاہیے تھا۔ اس جنگ کا موجودہ مرحلہ کسی پرانی بند گلی میں محض واپسی نہیں ہے۔ اس کی شروعات ایک زیادہ جارح دشمن کے خلاف انتہائی محدود فوجی اختیارات، ڈگمگاتی سفارتی ساکھ اور امریکی فوجیوں اور اتحادیوں کے لیے منڈلاتے بھاری خطرے، یعنی پہلے سے بھی بدتر صورت حال کے ساتھ ہوئی ہے۔

جنگ کے پچھلے مرحلے سے امید تھی کہ وہ امریکہ کی بے پناہ طاقت کا مظاہرہ کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس، تہران نے دباؤ میں زندہ رہنا اور اس کا کامیابی سے جواب دینا سیکھ لیا۔ ایران نے واشنگٹن کے ہتھیاروں کی طاقت بھی دیکھ لی ہے اور ان دباؤ کو بھی سمجھ لیا ہے جو ٹرمپ کے فیصلوں کا تعین کرتے ہیں۔ ایرانی لیڈر جانتے ہیں کہ امریکہ کو شکست دینے کے لیے انہیں صرف آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنائے رکھنا ہے، خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے رکھنا ہے، توانائی کی قیمتیں بڑھانی ہیں اور خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے لیے ایک قابل اعتبار خطرہ بنے رہنا ہے۔ امریکہ کے برعکس ایران کے پاس ایک صاف اور واضح حکمتِ عملی ہے۔


امریکہ اور ٹرمپ کے لیے یہ دوبارہ شروع کی گئی بمباری شدید اخراجات والی ایسی فوجی مشق بن گئی ہے، جس کا کوئی واضح اسٹریٹجک نتیجہ نہیں ہے۔ یہ جنگ ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیل کے لیے اس سے مبینہ طور پر پیدا ہونے والے خطرے کے دعووں سے شروع ہوئی تھی۔ لیکن اب یہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے کنٹرول کی جنگ بن چکی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس آبنائے کو کھلا رکھنا ہوگا، لیکن جنگ کا انتخاب کرنے سے پہلے بھی تو یہ کھلا ہی تھا! یعنی امریکہ اس صورت حال کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جان، ہتھیار اور سفارتی ساکھ گنوا رہا ہے، جسے اس کی اپنی مداخلت نے تباہ کر دیا تھا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران زخمی ہے، لیکن وہ اب بھی خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہے۔ اس کے حملوں کا دائرہ (جو پہلے صرف فوجی اڈوں تک محدود تھا) اب بحرین، قطر، کویت، عمان اور اردن کے بنیادی ڈھانچے تک پھیل چکا ہے۔ چند حملے ہی جہازوں کی آمد و رفت کو ٹھپ کر سکتے ہیں، بیمہ کمپنیوں کو خوف زدہ کر سکتے ہیں اور امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو یہ اسٹریٹجک حساب لگانے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ کیا امریکی اڈوں کو اپنے یہاں پناہ دینا واقعی فائدے کا سودا ہے؟


آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ بہت کچھ بیان کرنے والا تھا۔ کئی شہروں میں امڈنے والا بھاری ہجوم اس بات کا ثبوت تھا کہ بیشتر ایرانی امریکہ کے خلاف قومی مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے ملک پر حملہ ہوا تو وہ متحد ہو گئے۔ اس جنگ نے عوام کے غصے کا رخ واشنگٹن کی طرف موڑ دیا ہے۔ اس جنازے نے نئی قیادت کو یقین دلایا ہوگا کہ ایک اٹل اور جارح ایران کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ اس نے بدلہ لینے کے شدید عوامی جذبے کو بھی جنم دیا ہے، جس نے سفارت کاری کی گنجائش کو محدود کر دیا ہے اور ان انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ کوئی بھی سمجھوتا امریکی دباؤ میں اضافے کا سبب بنے گا۔

واشنگٹن فوجی اڈوں سے آگے بڑھ کر حملوں کا دائرہ وسیع کر کے اسی دلیل کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ عام شہری اسے اجتماعی سزا کے طور پر بھگت رہے ہیں۔ جب تک ایران مذاکرات کی میز پر نہ آ جائے، تب تک پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی دنیا کے سامنے ان کے طاقت کے استعمال کے ارادے کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف غیر قانونی اور اخلاقی طور پر بے معنی ہے، بلکہ اسٹریٹجک طور پر بھی انتہائی دور اندیشی سے عاری ہے۔ تباہ شدہ آبی نظام، برباد شدہ نقل و حمل کے نیٹ ورک اور ہلاک ہونے والے شہری صرف غصے کو گہرا کرتے ہیں اور ایران کے جوابی حملوں کو درست ثابت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ فضائی طاقت بنیادی ڈھانچے کو تباہ تو کر سکتی ہے، لیکن اس وسیع و عریض اور خوددار ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایران نو کروڑ آبادی والا ملک ہے، جس کا جغرافیائی ڈھانچہ انتہائی دشوار ہے اور جس کی صلاحیتیں پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر بمباری ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی تو واشنگٹن کے پاس صرف 2 راستے بچتے ہیں، یا تو وہ ایک خودکش زمینی حملے اور قبضے کے بارے میں سوچے، یا پھر اسٹریٹجک طور پر پیچھے ہٹ جائے۔


امریکہ کی فوجی برتری بھی آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہی ہے۔ فروری کے آخر سے اپریل کے وسط تک جاری رہنے والی 40 روزہ جنگ میں جو میزائل استعمال ہو گئے، ان کے ذخائر دوبارہ بھرنے میں برسوں لگ جائیں گے۔ ایرانی ڈرونز کے خلاف مہنگے انٹرسیپٹر میزائل کا استعمال امریکی ترکش کو سستے میں خالی کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب، اس کا ’زیرِ سایہ‘ یوکرین فضائی دفاعی نظام کے لیے بے تاب ہے، جبکہ امریکی اسٹریٹجسٹ چین کو طویل مدتی بنیادی چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں اپنے قیمتی ہتھیاروں کو ضائع کرنا انتہائی دور اندیشی سے عاری قدم ہے۔

ٹرمپ کا معاشی حساب بھی کوئی بہتر نہیں ہے۔ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں خلل ڈال کر بھاری معاشی نقصان پہنچا رہا تھا اور اب یہ خطرہ بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہ تک پھیل رہا ہے۔ بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور آبنائے باب المندب کے ذریعے بحیرۂ روم کو بحرِ ہند سے جوڑتا ہے۔ عالمی بحری تجارت کا 12 سے 15 فیصد اور کنٹینر ٹریفک کا 30 فیصد اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔ ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے سعودی عرب اور باب المندب کے ذریعے ہونے والی جہازوں کی آمد و رفت، نیز مغربی سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہی شہر ینبع کے تیل برآمدی مرکز کی ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے۔


آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت کی 2 اہم شریانیں ہیں، اور دونوں کی بیک وقت ناکہ بندی کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف تیل کی برآمدات کے لیے بلکہ پورے خلیجی خطے کی غذائی درآمدات کے لیے بھی یہ نقصاندہ ہوگا۔ امریکی بھی اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ جنگ دوبارہ شروع کرنے سے صرف وہی داخلی دباؤ دوگنا ہوا ہے، جس نے ٹرمپ کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا تھا، اور اب دونوں فریقوں کے درمیان باہمی عدم اعتماد اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

کیا اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ ثالثوں کی جانب سے تجویز کردہ ایک عارضی جنگ بندی فی الحال اس چکر کو روک سکتی ہے، لیکن مستقل حل کے لیے واشنگٹن کو اس خوش فہمی کو ترک کرنا ہوگا کہ مذاکرات صرف ایران کے ہتھیار ڈالنے پر مہر لگانے کی ایک رسمی کارروائی ہیں۔ امریکہ ایک محدود سمجھوتے کی سمت آگے بڑھ سکتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمد و رفت، شہری جہازوں کا تحفظ اور ایران کی جوہری سرگرمیوں پر قابلِ تصدیق پابندی کے بدلے حملوں پر باہمی روک اور ایران کے خلاف پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی شامل ہو۔ عمان اور قطر جیسے ممالک، یورپی حکومتوں اور اقوام متحدہ کو ایسے نتیجے کی نگرانی اور ضمانت دینے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ سفارت کاری یہاں کچھ الجھی ہوئی دکھائی دے سکتی ہے، کیونکہ حقیقی سفارت کاری کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقوں کو کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ملے، جس کے ذریعے وہ اپنے ملک میں اپنا چہرہ دکھا سکیں۔


اس سے بھی مشکل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے ہی صدر پر لگام ڈال سکتا ہے؟ آئینی طور پر وہ ایسا کر سکتا ہے۔ جنگ کا اعلان کرنے، طاقت کے استعمال کی اجازت دینے اور جنگی کوششوں کے لیے رقم کی منظوری دینے کے اختیارات امریکی کانگریس کے پاس ہیں۔ لیکن اگر صدر اپنی ہی سنک پر چلنے کے لیے بضد ہو تو وہ قانونی ابہامات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جارحانہ کارروائی کو ’دفاعِ خود‘ قرار دے سکتا ہے اور یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جنگ میں ہونے والی ہر جنگ بندی 60 دن کی مدت کی گھڑی کو دوبارہ صفر سے شروع کر دیتی ہے۔

ایسی صورت حال میں امریکی کانگریس کو صرف عدم اطمینان کا اظہار کرنے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگا۔ وہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے فنڈ روک سکتی ہے، بشرطیکہ معاملہ امریکی افواج کو کسی قریب آتے حملے سے بچانے کا نہ ہو۔ وہ اس پابندی کو دفاعی بجٹ سے جوڑ سکتی ہے، عوامی طور پر قانونی جواز کا مطالبہ کر سکتی ہے، حکام کو طلب کر سکتی ہے اور حملوں کے اہداف، ہلاکتوں، اخراجات اور مقاصد پر مسلسل سماعت کر سکتی ہے۔ مواخذہ آخری راستہ ہے، لیکن یہ اس وقت تک سیاسی طور پر ناممکن ہے جب تک ان کی اپنی پارٹی کے ارکان ان سے الگ نہ ہو جائیں۔ اس میں عوام کا بھی ایک کردار ہے۔ انتخابات کانگریس کو تبدیل کر سکتے ہیں اور مسلسل برقرار رہنے والا عوامی غصہ نافرمانی کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ کے پاس اس صدر کو روکنے کے طریقۂ کار تو موجود ہیں۔ کمی آئینی اختیار کی نہیں بلکہ اس سیاسی جرأت کی ہے، جو ٹرمپ کو امریکہ کو ایسی راہ پر آگے بڑھانے سے روک سکے، جہاں ہر گزرتا ہوا میل واپسی کو مزید مہنگا بناتا جا رہا ہو۔

(اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈی کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔