مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ ’بڑی فتح‘ کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے… آکار پٹیل
ہمارے کسان بھائی تلخ حقیقت کو جانتے تھے اور انہوں نے محسوس کیا کہ سڑکوں پر اترنا ہی ان کا واحد راستہ تھا۔ ہمارے طلبا نے بھی بالکل یہی محسوس کیا۔

مدیر محترم نے مجھ سے موجودہ احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں 3 باتوں پر غور کرنے کو کہا: کیا اس تحریک نے میرے اندر امید جگائی ہے؟ کیا مجھے خوف ہے کہ یہ مظاہرے وقت کے ساتھ ٹھنڈے پڑ جائیں گے؟ اور مجھے اس تاریخی موڑ سے کیا نتیجہ برآمد ہونے کی امید ہے؟
پہلے سوال کا میرا جواب ہے ’ہاں‘۔ ہر طرح کے احتجاج اور اختلاف رائے سے کارکنوں میں امید پیدا ہوتی ہے، کیونکہ ان کی بنیادی سوچ ہی یہ ہے کہ ریاستی نظام نامکمل ہے اور اس میں اصلاح صرف جوابدہی کا مطالبہ کر کے ہی ہو سکتی ہے۔ وسیع معنوں میں بدعنوانی ریاستی نظام کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے، اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت کی شکل میں یہ ریاستی نظام عوامی خادم کے بجائے مالک کی طرح برتاؤ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ خاص احتجاج اس لیے متاثر کن ہے کہ نوجوانوں نے انتہائی کم وسائل کے ساتھ شروعات کی اور اسے ایک وسیع تحریک کی شکل دے دی۔ ابتدا میں ان کا مذاق اڑایا گیا، لیکن ان کے عزم، حوصلے اور پختہ ارادے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کا مسئلہ ہمارے اس وسیع ملک کی سب سے بڑی خبر بن چکا ہے۔
دوسرے سوال پر میرا ماننا ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہوگی اور وزیر تعلیم نے اب استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہروں کے فوراً بعد ہوا۔ ممکن ہے انھیں کسی دوسرے محکمے میں بھیج دیا جائے۔ جو بھی ہو، نیٹ امتحان میں بے ضابطگی کی بات تسلیم کرنے کے باوجود وزیر کو عہدے پر برقرار رکھنے کی ضد مکمل طور پر غیر منطقی تھی۔ طلبا تحریک نے وزیر کا عہدے پر برقرار رہنا ناممکن بنا دیا اور حکومت کو بالآخر سخت فیصلہ لینا ہی پڑا۔
حکومت کا پورا ردِعمل (ابتدا میں تحریک کو نظر انداز کرنے سے لے کر اس کے لیڈران کی توہین کرنے، پھر پولیس کے ذریعے دباؤ اور آخر میں نوجوانوں کو بدنام کرنے تک) مکمل طور پر ناکام رہا، کیونکہ اس کا کامیاب ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بڑی فتح کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو نوجوان مظاہرین نے حاصل کی ہے۔ ایک حقیقی جمہوریت وہی ہے جہاں عوامی دباؤ حکومت کو اپنی پالیسیاں اور فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کر دے۔ ملک کے طلبا آج اسی راستے پر چل رہے ہیں، جس پر کسان ان سے پہلے چل چکے ہیں۔
تیسرے سوال، کہ مجھے اس موڑ سے کس نتیجے کی امید ہے، کے 2 پہلو ہیں۔ بلاشبہ، میں چاہتا ہوں کہ طلبا کو انصاف ملے اور حکومت اپنی جواب دہی قبول کرے۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تعلیمی شعبے کا یہ بحران ہم سب کو، اور خاص طور پر حکومت کو، اس اہم سوال پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے کہ آگے کا راستہ کیا ہوگا۔ یہ شیشے کی طرح صاف ہے کہ آنے والے وقت میں ملک کو 2 سب سے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مسائل ہیں روزگار اور غربت۔ زرعی مزدوروں کو مینوفیکچرنگ اور پھر خدمات کے شعبے میں منتقل کرنے کا روایتی اقتصادی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ چین بھی، جس نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں اس راستے پر سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی، آج ایسے کروڑوں لوگوں کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جن کے پاس یا تو کام ہی نہیں ہے یا پھر ناکافی کام ہے۔ ہندوستان کے لیے اس بحران سے نمٹنے کی کسی بھی حکمت عملی کی شروعات اس ایماندارانہ اعتراف سے ہونی چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے حقیقی مسائل کیا ہیں۔
یہ ایک انتہائی عام سی بات لگ سکتی ہے، لیکن اسے ماننا اور کہنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ ہم ایک ایسی حکومت اور ایسے وزیر اعظم کو دیکھ رہے ہیں جو یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ کوئی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں ’سب چنگا سی‘ کا دکھاوا کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے اور اب یہ بات چھپی بھی نہیں رہی۔ طلبا کا غصہ اور مایوسی نہ صرف اس بدعنوانی اور نااہلی سے پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث نیٹ میں بے ضابطگیاں ہوئیں، بلکہ اس خوف سے بھی پیدا ہوئی ہے کہ ان کا مستقبل تاریک ہے۔ طلبا نے اپنے جذبات کا انتہائی وضاحت کے ساتھ اظہار کر دیا ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے مطالبات کو تسلیم کرے اور ایک ایسا عمل شروع کرے، جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ہم دوبارہ کبھی ایسے موڑ پر کھڑے نہ ہوں۔
اصل تشویش یہ ہے کہ حکومت شاید اس کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھائے۔ اگرچہ وہ اس مرحلے میں وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے ساتھ ہار چکی ہے، پھر بھی کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسے کسی وسیع تر مسئلے سے غیر متعلق ایک الگ تھلگ واقعہ سمجھ کر نظر انداز کر دے۔ شاید اسے اپنی ہی کہی ہوئی ان جھوٹی باتوں پر یقین ہے کہ اس کے پیچھے بیرونی طاقتیں اور ایجنڈے کام کر رہے ہیں۔ اس کی سوچ چاہے جو بھی ہو، گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے نے دکھایا ہے کہ یہ حکومت بے بنیاد یقین دہانیوں اور تکبر کے گرد قائم ہے۔ یہی رویہ لازماً ہمیں بار بار اسی مقام پر لا کھڑا کرے گا۔ ہمارے کسان اس تلخ حقیقت کو جانتے تھے اور انہوں نے محسوس کیا کہ سڑکوں پر اترنا ہی ان کا واحد راستہ تھا۔ ہمارے طلبا نے بھی بالکل یہی محسوس کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
