
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
برطانیہ کی حکومت نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے اور اسکولوں میں موبائل فون پر سخت پابندی عائد کیے جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 19 جنوری 2026 کو ایک پریس ریلیز جاری کر اہم جانکاریاں دی گئیں۔ جاری بیان کے مطابق حکومت نے 2 اہم اقدام اٹھائے ہیں، جو بچوں کی صحت اور پڑھائی کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ یہ 2 اقدامات اب سرخیوں میں ہیں اور اس پر مباحثے بھی شروع ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
پہلا معاملہ اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی سے متعلق ہے۔ حکومت نے صاف طور پر کہا ہے کہ اسکول ’فون فری‘ ہونے چاہئیں۔ یعنی کلاس، بریک، لنچ ٹائم یا کسی بھی وقت بچوں کو فون استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بیشتر اسکولوں میں پہلے سے ہی ’نو فون پالیسی‘ ہے، لیکن اب ’آف اسٹیڈ‘ (اسکولوں کی جانچ کرنے والی سرکاری ایجنسی) ہر انسپیکشن میں جانچ کرے گی کہ پالیسی ٹھیک طرح سے نافذ ہو رہی ہے یا نہیں۔ جو اسکول مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انھیں خصوصی مدد دی جائے گی۔ ایجوکیشن سکریٹری بریجیٹ فلپسن نے اس تعلق سے کہا کہ اسکولوں میں موبائل کا کوئی کام نہیں، اس سلسلے میں کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔
Published: undefined
دوسرا قدم سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ حکومت ایک بڑا کنسلٹیشن (عوام سے رائے طلب کرنے کا پروگرام) شروع کر رہی ہے۔ اس کے ذریعہ پتہ کیا جائے گا کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی مناسب کم از کم عمر کیا ہونی چاہیے۔ یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کیا کسی خاص عمر (مثلاً 16 سال) سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پوری طرح سے ممنوع کر دینا چاہیے، جیسا کہ آسٹریلیا میں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلہ لینے سے قبل کنسلٹیشن کے دوران کچھ اہم سوالات پوچھے جائیں گے، جو اس طرح ہیں:
عمر کی جانچ کس طرح کی جا سکتی ہے، تاکہ بچے جھوٹ بول کر اکاؤنٹ نہ بنا سکیں؟
کیا موجودہ ڈیجیٹل عمر کی حد (ڈیجیٹل ایج آف کنسنٹ) بہت کم ہے؟
سوشل میڈیا ایپس میں وہ فیچرس بند یا محدود کرنے چاہئیں جو عادت لگاتے ہیں، مثلاً انفنیٹ اسکرالنگ (اسکرال کرتے رہنے کی عادت)، اسٹریکس (روز چیک اِن کا سسٹم) وغیرہ؟
والدین کو مزید مدد کس طرح مل سکتی ہے، مثلاً آسان پیرینٹل کنٹرول یا اسکرین ٹائم کی گائیڈلائنس؟
Published: undefined
ٹیکنالوجی سکریٹری لز کینڈل کا کہنا ہے کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ سے قبل ہی کافی کچھ بہتری ہوئی ہے، لیکن والدین اب بھی فکر مند ہیں۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے مزید قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پورے ملک میں میٹنگیں کرے گی، جہاں والدین، بچے اور سماج کے لوگ اپنی رائے دیں گے۔ گرمیوں تک اس سلسلے میں جواب آ جانے کی امید ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت مانتی ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی پڑھائی، توجہ، دوستی اور ذہنی صحت پر برا اثر ڈال رہا ہے۔ ساتھ ہی 5 سے 16 سال کے بچوں کے والدین کے لیے اسکرین ٹائم کی نئی گائیڈلائن بھی جلد آئے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined