دیگر ممالک

ہارورڈ یونیورسٹی پر ٹرمپ انتظامیہ کی سختی، 30 دن میں وضاحت دینا ہو گی ورنہ غیر ملکی طلباء کے داخلے پر روک

ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ ہارورڈ نے ملک دشمن سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے، یہود مخالف سوچ کو پناہ دی ہے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ملی بھگت کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی طلباء کے داخلے سے متعلق ایک اہم پروگرام کی منظوری منسوخ کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کرنے کے بجائے یونیورسٹی کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اس پر اعتراضات درج کرائے اور قواعد کے مطابق طریقہ کار کے تحت اپنا موقف پیش کرے۔

Published: undefined

یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے بدھ کے روز ہارورڈ کو ایک "نوٹس آف انٹینٹ" بھیجا، جس کے تحت ہارورڈ کی ایک ایسے ادارے کے طور پر شناخت کو منسوخ کیا جا سکتا ہے جو سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام (SEVP) کے تحت غیر ملکی طلباء کو داخلے کی اجازت دیتا ہے۔

Published: undefined

امریکی محکمہ انصاف نے یہ معلومات جمعرات کو عدالت میں دی، جہاں بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج ایلیسن بروز کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے 22 مئی کو ہارورڈ کی ایس ای وی پی کی منظوری کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

Published: undefined

ہارورڈ یونیورسٹی نے عدالت میں کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ اس سے آزادی اظہار اور مناسب عمل کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہارورڈ کا کہنا ہے کہ قواعد کے مطابق ڈی ایچ ایس کو کم از کم 30 دن کا وقت دینا چاہیے اور ادارے کو اپنا اعتراض اور اپیل درج کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ ہارورڈ نے ملک دشمن سرگرمیوں کو فروغ دیا، یہودی مخالف سوچ کو پروان چڑھایا اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ملی بھگت کی۔ تاہم ان الزامات کا کوئی براہ راست ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

Published: undefined

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوئم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہارورڈ کو امریکی اقدار کو نقصان پہنچانے کی عادت ترک کرنا ہو گی، ورنہ عوام سے ملنے والے فوائد ختم کر دیے جائیں گے۔" ہارورڈ نے ان الزامات کی صریح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف یونیورسٹی کو بڑا دھچکا لگے گا بلکہ 27 فیصد غیر ملکی طلباء جو اس وقت وہاں زیر تعلیم ہیں انہیں بھی دوسرے اداروں میں جانا پڑے گا ورنہ ان کے ویزے اور قانونی حیثیت ختم ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

سابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ ہارورڈ کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد غیر ملکی طلباء کو داخلہ دینا چاہیے، جسے تعلیمی آزادی پر ایک اور دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ صرف ویزوں یا طلبہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تعلیمی آزادی، عدالتی عمل اور انتظامی مداخلت جیسے سنگین مسائل سے ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined