
پابنديوں کی صورت ميں امريکا کی جانب سے ايران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کا مقصد شيعہ مسلمانوں کی اکثريت والے اس ملک کے شہريوں کو اپنی ہی حکومت کے خلاف کرنا ہے۔ یہ الزام ايران کے سپريم ليڈر آيت اللہ علی خامنہ ای نے لگايا ہے، جو ان کی ويب سائٹ پر ہفتے کے روز جاری کیا گیا۔ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خليجی رياستوں کے ساتھ مل کر ايرانی حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنانا چاہتے ہيں۔
Published: 01 Jul 2018, 1:39 PM IST
ايرانی رہنما نے يہ بيان دارالحکومت تہران اور ملک کے کئی ديگر بڑے شہروں ميں تاجر برادری کے تين روزہ حاليہ احتجاج کے تناظر ميں ديا۔ ايرانی ريال کی قدر ميں صرف گزشتہ ايک ماہ کے اندر چاليس فيصد کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔ يہ کمی امريکی صدر کی جوہری ڈيل سے دستبرداری اور ايرانی خام تيل کی برآمدات کو محدود کرنے کی کوشش کے حوالے سے اعلان کے بعد ہوئی ہے۔
Published: 01 Jul 2018, 1:39 PM IST
واضح رہے کہ چھ عالمی طاقتوں نے پابنديوں ميں نرمی کے بدلے ميں ايران کی متنازعہ جوہری سرگرميوں کو محدود رکھنے کے مقصد سے ايک معاہدے کو 2015ء ميں حتمی شکل دی تھی۔ تاہم امريکی صدر نے حال ہی ميں اس ڈيل سے دست برداری اور پابنديوں کے دوبارہ نفاذ کا اعلان کيا ہے۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں ايک نيا سفارتی محاذ کھل گيا ہے اور ايرانی معيشت آج کل شديد دباؤ کا شکار ہے۔
Published: 01 Jul 2018, 1:39 PM IST
ايرانی سپريم ليڈر نے30 جون کو اپنے خطاب ميں کہا، ’’پابنديوں کا مقصد اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ايرانی عوام اور حکومت کے درميان تقسيم پيدا ہو سکے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے بھی 6 امريکی صدور ايسی کوششيں کر چکے ہيں اور ان سب ہی کو ہمت ہارنی پڑی۔‘‘ خامنہ ای کے بقول اگر امريکا ايران کے خلاف خود کارروائی کر سکتا، تو اسے ايران ميں عدم استحکام اور بد امنی پھيلانے کے ليے اس خطے ميں موجود ممالک کا سہارا نہ لينا پڑتا۔ ايرانی سپريم ليڈر کا يہ بيان سرکاری ٹيلی وژن پر بھی دکھايا گيا۔
ايران ميں پاسداران انقلاب کی جس تقريب سے سپریم لیڈر خامنہ ای خطاب کر رہے تھے، اس ميں شريک چند افسروں نے اپنے جوتوں کے تلووں پر روايتی حريف ملک اسرائيل کے پرچم بنا رکھے تھے۔ اس کی خبر ایرانی نيم سرکاری خبر رساں ادارے تسنيم نے دی ہے۔
دريں اثناء ايران کی سرکاری نيوز ايجنسی IRNA کے مطابق صدر حسن روحانی نے امريکی پابنديوں کے اثرات کا جائزہ لينے اور اس سلسلے ميں مستقبل کا لائحہ عمل ترتيت دينے کے ليے پارليمان اور عدليہ کے سربراہان سے بھی ملاقات کی ہے۔ بتايا گيا ہے کہ اس سلسلے ميں جوابی حکمت عملی تيار کر لی گئی ہے۔
Published: 01 Jul 2018, 1:39 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 01 Jul 2018, 1:39 PM IST