دہلی سے باگڈوگرا جانے والی پرواز کو بم کی دھمکی، لکھنؤ ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ
دہلی سے باگڈوگرا جانے والی انڈیگو پرواز کو بم کی دھمکی کے بعد لکھنؤ ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تلاشی میں کوئی مشتبہ شے نہیں ملی، تحقیقات جاری ہیں

دہلی سے مغربی بنگال کے باگڈوگرا جانے والی انڈیگو ایئرلائنز کی ایک پرواز میں بم ہونے کی اطلاع کے بعد اتوار کے روز شدید ہلچل مچ گئی۔ پرواز نمبر 6ای 6650 کو احتیاطی اقدام کے طور پر لکھنؤ کے چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ اطلاع ملتے ہی ہوائی اڈہ انتظامیہ، ایئرلائنز انتظامیہ اور مختلف حفاظتی ایجنسیاں فوراً الرٹ موڈ میں آ گئیں اور مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی۔
ذرائع کے مطابق انڈیگو کا یہ طیارہ دہلی سے باگڈوگرا کے لیے روانہ ہوا تھا کہ دورانِ پرواز بم کی دھمکی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ پائلٹ نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول کو صورت حال سے آگاہ کیا، جس کے بعد حفاظتی ضابطوں کے تحت طیارے کا رخ لکھنؤ کی جانب موڑ دیا گیا۔ ہوائی اڈے پر طیارے کی لینڈنگ سے قبل رن وے اور اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
طیارہ لینڈ کرتے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ بم ناکارہ بنانے والا دستہ، سی آئی ایس ایف اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کو منظم اور محفوظ طریقے سے طیارے سے باہر نکالا گیا۔ مسافروں کی مکمل جانچ کی گئی اور ان کے سامان کی باریک بینی سے تلاشی شروع کی گئی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔
تلاشی کے دوران ہوائی اڈے پر کچھ وقت کے لیے بے چینی کی کیفیت رہی، تاہم سکیورٹی اداروں نے حالات کو قابو میں رکھا۔ مسافروں کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور ان سے اپیل کی گئی کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ ہوائی اڈہ انتظامیہ کی جانب سے پانی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
بم ناکارہ بنانے والے دستے نے طیارے کے اندر نشستوں، سامان رکھنے کے حصوں، کاک پٹ اور کارگو ایریا کی تفصیلی جانچ کی۔ ابتدائی تفتیش میں کوئی مشتبہ شے برآمد نہیں ہوئی، تاہم مکمل اطمینان کے بعد ہی اگلے اقدامات کیے گئے۔ اس واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے پروازوں کا نظام متاثر ہوا، لیکن بعد میں معمول بحال کر دیا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق دھمکی دینے والے کے سراغ کے لیے تفتیش جاری ہے اور جھوٹی اطلاع دینے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔