
بنگلہ دیش میں عام انتخاب انتہائی قریب ہے، لیکن ووٹنگ اور نتائج برآمد ہونے سے ٹھیک پہلے کئی وزراء ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف سرکاری پاسپورٹ اور ویزا سے متعلق درخواستوں نے کیا ہے۔ دراصل یونس حکومت کے کئی وزراء (مشیر) ایک ساتھ سفارتی پاسپورٹ جمع کر رہے ہیں۔ عام طور پر حکومت سے ہٹنے کے بعد وزرا یہ سفارتی پاسپورٹ جمع کراتے ہیں۔ یہ سفارتی پاسپورٹ بنگلہ دیش میں وزراء اور سفارتخانہ کے سینئر افسران کو جاری کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
’بی بی سی بانگلہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سفارتی پاسپورٹ اس لیے جمع کرایا جا رہا ہے تاکہ انھیں آسانی سے ملک سے باہر جانے کے لیے ویزا مل جائے۔ کئی وزراء نے ویزا کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔ ویزا ملتے ہی یہ وزراء یعنی مشیر بیرون ممالک چلے جائیں گے۔ مشیر برائے خارجہ توحید حسین نے اس بارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ وزراء نے ویزا ایپلائی کے لیے اپنا سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کر دیا ہے۔ ویزا کے لیے یہ کرنا ضروری ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’اب تک روایت رہی ہے کہ عہدہ جانے کے بعد وزراء سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کرتے ہیں۔ میں نے اور میری بیوی نے اس پاسپورٹ کو اب تک سرینڈر نہیں کیا ہے۔‘‘
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق اب تک صرف مشیر برائے مالیات ڈاکٹر صالح الدین احمد کے پاسپورٹ سرینڈر کرنے کی خبر باہر آ سکی ہے۔ صالح الدین نے خود اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں محمد فوزالکبیر خان کے ذریعہ بھی سفارتی پاسپورٹ سرینڈر کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حالانکہ توحید حسین نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کسی بھی نام کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ووٹنگ ہے۔ 15 فروری تک نتائج بھی برآمد ہو جائیں گے۔ اس کے بعد حکومت تشکیل دینے کا عمل شروع ہوگا۔ ایسے میں ابھی سے جس طرح وزراء نے اپنا پاسپورٹ سرینڈر کرنا شروع کر دیا ہے، اس سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ سبھی ’احتیاطاً فرار‘ ہونے کی تیاری میں ہیں۔ وزراء کے خوفزدہ ہونے کے پیچھے وجہ بی این پی کی ممکنہ حکومت سازی ہے۔ دراصل کئی وزراء طارق رحمن کی بی این پی کے رڈار میں ہیں۔ بنگلہ دیش میں آئے اب تک کے سبھی بڑے سروے میں بی این پی کے ہی اقتدار میں آنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اسی لیے طارق رحمن کے مخالفین اپنی حفاظت کا ابھی سے خیال رکھ رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined