یو پی ایس سی: سول سروس امتحان کے قواعد میں بڑی تبدیلی، سروس میں موجود افسران کے مواقع ہوئے محدود
یو پی ایس سی نے سول سروس امتحان 2026 کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے آئی اے ایس اور آئی ایف ایس افسران کے لیے دوبارہ امتحان پر پابندی لگا دی ہے جبکہ آئی پی ایس افسران کو محدود مواقع دیے گئے ہیں

یونین پبلک سروس کمیشن نے سول سروس امتحان 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اہم قواعد میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سروس میں موجود افسران کے لیے بار بار امتحان دے کر رینک بہتر بنانے کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن کے اس فیصلے کو سول سروس کے ڈھانچے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کمیشن کے مطابق سول سروس امتحان 2026 کے ذریعے مجموعی طور پر 933 عہدوں پر تقرری کی جائے گی اور امیدوار 24 فروری 2026 تک آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ امتحانی طریقہ کار، سوالیہ پیٹرن اور انتخابی عمل میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم پہلے سے خدمات انجام دے رہے افسران کے لیے شرائط سخت کر دی گئی ہیں۔
نئے قواعد کے تحت جو امیدوار پہلے ہی کسی سول سروس میں منتخب ہو چکے ہیں، انہیں رینک میں بہتری کے لیے غیر محدود مواقع دستیاب نہیں ہوں گے۔ خاص طور پر انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس اور انڈین فارسٹ سروس کے افسران کو سول سروس امتحان 2026 میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کوئی امیدوار ابتدائی امتحان میں شریک ہو چکا ہو اور مرکزی امتحان سے قبل کسی سابقہ امتحان کی بنیاد پر آئی اے ایس یا آئی ایف ایس بن جائے تو اسے آگے کے مراحل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ ابتدائی مرحلہ کامیابی سے عبور کر چکا ہو۔
اگر کسی امیدوار نے 2026 کے امتحان کے لیے درخواست دی ہو اور انتخابی عمل کے دوران ہی وہ سابقہ امتحان کی بنیاد پر آئی اے ایس یا آئی ایف ایس مقرر ہو جائے تو اس کی 2026 کے امتحان کے ذریعے تقرری پر غور نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ ایک بار اعلیٰ سروس حاصل کرنے کے بعد دوبارہ امتحان کے ذریعے رینک میں مسلسل بہتری کی روایت کو ختم کیا جا رہا ہے۔
انڈین پولیس سروس کے افسران کے لیے بھی الگ اور سخت شرائط طے کی گئی ہیں۔ جو امیدوار پہلے سے آئی پی ایس ہیں، وہ 2026 کے نتیجے کی بنیاد پر دوبارہ آئی پی ایس نہیں بن سکیں گے، تاہم انہیں رینک بہتر بنانے کے لیے ایک موقع دیا جائے گا۔ جو امیدوار 2026 کے ذریعے آئی پی ایس منتخب ہوتے ہیں، وہ 2027 میں ایک بار امتحان دے سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں تربیتی افسر سے اجازت لینا ہوگی اور ایک مرتبہ تربیت سے چھوٹ دی جائے گی۔ اگر کوئی افسر نہ تربیت جوائن کرے اور نہ ہی باضابطہ چھوٹ حاصل کرے تو اس کی سروس منسوخ کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں، اگر کوئی امیدوار 2026 کے ذریعے منتخب ہونے کے بعد 2028 یا اس کے بعد کا امتحان دینا چاہے تو اسے موجودہ سروس سے استعفیٰ دینا لازمی ہوگا۔ 2027 میں ناکامی کی صورت میں امیدوار 2026 میں ملی سروس جوائن کر سکتا ہے، تاہم بار بار کوشش کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔
جو امیدوار ابھی کسی سروس میں شامل نہیں ہیں، ان کے لیے مواقع اور عمر کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ عمومی زمرے کے امیدواروں کو چھ مواقع، دیگر پسماندہ طبقات کو نو مواقع جبکہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے امیدواروں کے لیے کوششوں کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ یکم اگست 2026 کو عمر کم از کم 21 اور زیادہ سے زیادہ 32 سال ہونی چاہیے، جبکہ محفوظ طبقات کو ضابطوں کے مطابق عمر میں رعایت دی جائے گی۔ یہ تبدیلیاں امیدواروں کے لیے حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینے کا اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔