بنگال ایس آئی آر: 7 فروری تک 15 لاکھ ووٹروں کی سماعت مکمل کرنے کا ہدف
مغربی بنگال میں مسودہ ووٹر فہرست پر دعووں اور اعتراضات کی سماعت کی آخری تاریخ 7 فروری ہے۔ تین دن میں تقریباً 15 لاکھ ووٹروں کی سماعت مکمل کی جائے گی جبکہ حتمی فہرست 14 فروری کو جاری ہوگی

کولکاتا: مغربی بنگال میں مسودہ ووٹر فہرست پر دعووں اور اعتراضات کی سماعت مکمل کرنے کی مقررہ مدت ختم ہونے میں محض تین دن باقی رہ گئے ہیں۔ انتخابی شیڈول کے مطابق آئندہ تین دنوں میں تقریباً 15 لاکھ ووٹروں کی سماعت مکمل کی جانی ہے۔ سماعت کی آخری تاریخ 7 فروری مقرر ہے جبکہ حتمی ووٹر فہرست 14 فروری کو شائع کی جائے گی۔
روزانہ کی بنیاد پر جاری سماعتوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی انتخابی کمیشن کو یقین ہے کہ مقررہ ہدف وقت پر حاصل کر لیا جائے گا۔ مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کے ایک ذریعے کے مطابق اس وقت ریاست بھر میں تقریباً 6 ہزار 500 سماعتی مراکز فعال ہیں جہاں دعووں اور اعتراضات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ذریعے نے کہا کہ اگر ہر مرکز روزانہ طے شدہ تعداد میں درخواستوں کی سماعت مکمل کرے تو تین دن میں تمام زیر التوا معاملات نمٹائے جا سکتے ہیں اور یہ کوئی دشوار کام نہیں ہے۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ 9 فروری کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کے سامنے ایس آئی آر معاملے کی اگلی سماعت طے ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ اس تاریخ سے پہلے دعووں اور اعتراضات کی جانچ کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی امید کی جا رہی ہے کہ وہ تین رکنی بنچ کے سامنے ریاست کا مؤقف پیش کریں گی، جیسا کہ انہوں نے بدھ کے روز کیا تھا۔
ریاست میں ایس آئی آر عمل کا آغاز گزشتہ سال 27 دسمبر کو ہوا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں کارروائی کی رفتار سست تھی، تاہم بعد ازاں ہر سماعتی مرکز پر عملے کی تعداد میں اضافہ اور نئے مراکز کے قیام کے بعد اس میں تیزی آئی۔
14 فروری کو حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے کے بعد انتخابی کمیشن کی مکمل بنچ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مغربی بنگال کا دورہ کرے گی۔ اس کے فوراً بعد اہم اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کی توقع ہے۔ چیف الیکشن آفیسر کے دفتر نے کمیشن کو تجویز دی ہے کہ گزشتہ انتخابات کی طرح سات یا آٹھ مراحل کے بجائے اس بار انتخابی عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے۔ اندازہ ہے کہ انتخابات اپریل کے اواخر تک مکمل ہو جائیں گے اور مئی کے پہلے ہفتے تک نئی ریاستی کابینہ تشکیل پا جائے گی۔