دیگر ممالک

فرانس: چوبیس سو سے زائد گرفتار، جزوی کرفیو کا حکم

فرانسیسی وزیر اعظم لیکورنو نے یہ واضح نہیں کیا کہ ملک بھر کے کون سے شہر جزوی کرفیو کے تابع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار اور دکانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

فرانسیسی وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے پیر  یعنی 19 اکتوبر کو فسادات اور لوٹ مار سے متاثرہ علاقوں میں جزوی کرفیو کا حکم دیا۔ انہوں نے علاقائی حکام کو پیر کی شام سے کچھ شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات جزوی اور مقامی ہوں گے، جن کا مقصد کاروبار اور دکانوں کی حفاظت کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد تشدد پھوٹ پڑا، جو حالیہ برسوں میں سڑکوں پر ہونے والے سب سے سنگین تشدد میں سے ایک ہے۔

تاہم فرانسیسی وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے یہ نہیں بتایا کہ ملک بھر کے کون سے شہر جزوی کرفیو کے تابع ہوں گے اور نہ ہی انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ اقدامات کیسے نافذ کیے جائیں گے۔ دریں اثنا، انہوں نے دارالحکومت پیرس میں مکمل کرفیو لگانے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ منگل یعنی 20 اکتوبر سے شروع ہونے والے احتجاج سے متاثر ہونے والے کاروباروں کے لیے عارضی فرلو کے اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں مظاہروں اور ہنگاموں کے حوالے سے تیاری اور انٹیلی جنس کی کوتاہیوں کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے وزیر داخلہ لارینٹ نوز کے استعفیٰ کے امکان کو مسترد کردیا ۔ فرانس میں یہ مظاہرے بنیادی طور پر مہنگائی اور زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے تھے۔ ہفتہ  یعنی 17 اکتوبر کو فرانس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے دوران تقریباً چوبیس سو افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ تقریباً 1,000 پولیس اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات بھی ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔