’ایبولا‘ سے متاثرہ کینیا کو ہندوستان نے طبی سامان کی دوسری کھیپ سونپی
وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’ایبولا سے نمٹنے کی تیاریوں اور اس کے خلاف کارروائی کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان نے کینیا کو 11 ٹن طبی امداد کی دوسری کھیپ حوالے کی ہے۔‘‘

ہندوستان نے ایبولا کی وبا سے متاثرہ کینیا کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ پیر کو ہندوستان نے 11 ٹن طبی سامان کی دوسری کھیپ کینیا کے حوالے کی۔ کینیا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر آدرش سوائیکا نے کینیا کے محکمہ صحت عامہ کی پرنسپل سکریٹری میری متھونی موریوکی کو طبی امداد کی دوسری کھیپ سونپی۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’ایبولا سے نمٹنے کی تیاریوں اور اس کے خلاف کارروائی کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان نے کینیا کو 11 ٹن طبی امداد کی دوسری کھیپ حوالے کی ہے۔‘‘
11 ٹن کی اس کھیپ میں پی پی ای کٹس، بجلی سے چلنے والے ایئر پیوریفائنگ ریسپیریٹرز، بائیو سیفٹی کیبنٹ اور کولڈ چین ریفریجریٹرز شامل ہیں۔ ان کا مقصد وبا سے نمٹنے والے فرنٹ لائن صحت کارکنان کو تحفظ فراہم کرنا، لیبارٹری کی حفاظت کو مضبوط بنانا اور صحت عامہ کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ کینیا میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں ہندوستان کی جانب سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے۔
کینیا میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’رواں سال جولائی میں امداد پہنچانے کے بعد، ہائی کمشنر نے پیر کو کینیا کے محکمہ صحت عامہ کی پرنسپل سکریٹری میری متھونی موریوکی کو طبی امداد کی دوسری کھیپ سونپی، تاکہ ایبولا سے نمٹنے کی تیاریوں اور اس سے بچاؤ میں مدد مل سکے۔‘‘ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’11 ٹن کی اس کھیپ میں پی پی ای کٹس، بجلی سے چلنے والے ایئر پیوریفائنگ ریسپیریٹرز، بائیو سیفٹی کیبنٹ اور کولڈ چین ریفریجریٹرز شامل ہیں۔ یہ سامان فرنٹ لائن صحت کارکنان کو تحفظ فراہم کرے گا اور لیبارٹری کی حفاظت اور صحت عامہ کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا۔ ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں ہندوستان کینیا کے ساتھ کھڑا ہے اور صحت کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
ہندوستان کی جانب سے کینیا کو یہ طبی امداد ایسے وقت میں دی گئی ہے، جب کینیا کے محکمہ صحت کے افسران نے ایبولا کے آٹھویں معاملے کی تصدیق کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا، جب ایک مریض کے ساتھ موجود ایک تیماردار (اٹینڈنٹ) کی ٹیسٹ رپورٹ پازیٹو آئی۔ کینیا کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک ایموتھ نے بتایا کہ مریض کے ساتھ موجود وہ شخص آئسولیشن میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے سے اسپتال میں داخل مریضوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ نے ان کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو 38 افراد کی جانچ کی گئی، جن میں سے ایک شخص ایبولا کے ’بنڈی بگیو‘ اسٹرین سے متاثر پایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایبولا ایک سنگین اور اکثر جان لیوا بیماری ہے، جو انسانوں اور دیگر پرائمیٹس (جیسے بندر، چمپانزی وغیرہ) کو متاثر کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یہ وائرس جنگلی جانوروں (جیسے فروٹ بیٹ یعنی چمگادڑ، ساہی اور انسانوں کے علاوہ دیگر پرائمیٹس) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ متاثرہ افراد کے خون، رطوبتوں، اعضاء یا جسم کے دیگر سیال مادوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے دوسرے لوگوں میں پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ ان سیال مادوں سے آلودہ سطحوں یا چیزوں (جیسے بستر، کپڑے وغیرہ) کے رابطے میں آنے سے دیگر لوگوں میں پھیل جاتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
