اٹلی میں مظاہروں کے درمیان ہندوستانی شہریوں کے لیے ایڈوائزری، بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت
اٹلی میں احتجاجی مظاہروں اور تشدد کے واقعات کے درمیان ہندوستانی سفارت خانے نے شہریوں کو بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور مظاہروں کے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ میلونی نے تشدد کی مذمت کی
روم: اٹلی میں جاری احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے درمیان ہندوستانی سفارت خانے نے ملک میں مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں احتیاط برتنے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سفارت خانے نے شہریوں سے مظاہروں کے مقامات سے گریز کرنے اور مقامی خبروں کے ذریعے صورت حال پر نظر رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔
ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا کہ گزشتہ ہفتے اٹلی کے بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ اس پس منظر میں ہندوستانی شہریوں کو محتاط رہنے، بھیڑ والے علاقوں اور ان مقامات پر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جہاں مظاہرے جاری ہیں۔
سفارت خانے نے شہریوں کو ایسی سرگرمیوں اور ممکنہ واقعات سے متعلق مقامی خبروں پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ دریں اثنا، اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اتوار کو کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ایسے شرپسند عناصر کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو منظم گروہوں کی شکل میں احتجاجی مظاہروں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو شرپسندوں کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے تئیں یکجہتی اور اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں، مزدوروں، تاجروں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شہر میں خوف کے بغیر زندگی گزار سکے اور اسے اس بات کا تحفظ حاصل ہو کہ شرپسند عناصر اس کے شہر کو نقصان نہ پہنچائیں یا اسے آگ کے حوالے نہ کریں۔ میلونی نے سکیورٹی اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز میلونی نے پرامن احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کے تئیں احترام کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے تشدد کے واقعات کی مذمت کرنے کی اپیل بھی کی۔
میلونی نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی صحت مند جمہوریت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ان لوگوں کی بھی تعریف کی جو جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (سی جی آئی ایل) کی اپیل پر منعقدہ احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔ ان مظاہروں میں بائیں بازو کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی۔ ان کے مطابق، احتجاج کا مقصد یا نظریہ کچھ بھی ہو، پرامن طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنا جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے۔
تاہم، انہوں نے بعض شہروں میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ میلونی کے مطابق، میلان میں پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اہلکار زخمی ہوئے۔ ٹورین میں ایسے افراد کو روکا گیا جو پتھر اور کھڑکیاں توڑنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھوڑے لے جا رہے تھے، جبکہ بولونیا میں بدامنی کے باعث ریلوے اسٹیشن کو احتیاطی طور پر بند کرنا پڑا۔
اٹلی کی وزیر اعظم نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں بدامنی پھیلانے، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنے اور شہروں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والے عناصر پرامن مظاہرین سے الگ ہیں۔ ایسے حالات میں ہندوستانی سفارت خانے کی ایڈوائزری کا مقصد اٹلی میں موجود ہندوستانی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
