ایس آئی آر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں فرضی نام، بی جے پی کے اشارے پر کام کر رہا الیکشن کمیشن: اکھلیش یادو
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے بعد بھی ووٹر لسٹوں میں فرضی نام اور بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے کارروائی اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ کیا

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے باوجود انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں اب بھی فرضی ووٹروں کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر ایک ہی شخص ایک سے زیادہ پولنگ مراکز پر ووٹر کے طور پر درج ہے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشارے پر کام کر رہا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے کے باوجود ووٹر لسٹوں میں گڑبڑیاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن نے بھی ان بے ضابطگیوں کو تسلیم کیا ہے، لیکن انہیں معمولی غلطیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ اکھلیش یادو نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معمولی نہیں بلکہ بہت بڑی گڑبڑی ہے۔
اکھلیش یادو نے پیر کو لکھنؤ کے گومتی نگر میں سابق وزیر ودیا چودھری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی پر انتخابی بے ایمانی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا پورا ملک جانتا ہے کہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی ہارنے لگتی ہے تو وہ بے ایمانی اور چوری پر اتر آتی ہے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر نے الزام لگایا کہ بی جے پی، الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے بے ایمانی کرتی ہے اور کمیشن اس کے اشارے پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اور عام لوگ الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہیں تو بی جے پی کو تکلیف کیوں ہوتی ہے اور وہ اس کے دفاع میں کیوں سامنے آتی ہے؟
اکھلیش یادو نے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں اور انتخابات میں ووٹوں کی مبینہ لوٹ کے معاملے میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سماجوادی پارٹی نے ووٹر لسٹوں میں گڑبڑی اور ضمنی انتخابات میں ووٹوں کی مبینہ چوری کے حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن سے شکایت کی تھی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے کسی سیاسی جماعت کے اشارے پر کام کرنے کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ اکھلیش یادو کے ان الزامات سے ووٹر لسٹوں کی درستگی اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حوالے سے سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ تاہم، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق ان کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔
