گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے کسان، پرکاش راج نے کہا- ’مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹائیں گے‘

کسان تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور دلت رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ضلع سطح تک احتجاج پھیلانے کا اعلان کیا۔ پرکاش راج نے ووٹ کے ذریعے مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی بات کہی

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ بی بی سی</p></div>
i

بنگلورو: کسان تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور دلت تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جاری احتجاج کو ملک بھر میں ضلع سطح تک پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔ اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے اس موقع پر کہا کہ اگر حکومت بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتی تو اسے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے باہر کر دیا جائے گا۔

بنگلورو میں پیر کو کسان تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور دلت تنظیموں کے رہنماؤں نے پرکاش راج کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر جاری تحریک کو اب ضلع سطح تک لے جایا جائے گا۔ یہ اعلان سنیوکت کسان مورچہ کی اپیل کے بعد کیا گیا ہے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق احتجاج کو غیر مرکزی بنانا ضروری ہے تاکہ دیہی علاقوں تک بھی تحریک پہنچائی جا سکے۔

پرکاش راج نے کہا کہ کسانوں نے اپنے بچوں کو پٹتے ہوئے دیکھا ہے، جو حکمراں حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پورا ملک متحد ہو کر کھڑا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ووٹر کے احترام اور ہمارے حق رائے دہی کا سوال ہے۔‘‘ انہوں نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم کی اپیل بھی حکمراں جماعت نے ہی کی تھی، لیکن اس سے متعلق احتجاج کے معاملے میں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن تک جیل میں رکھا گیا۔

پرکاش راج نے عدالتی کارروائی کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام آمروں نے سزا دینے کے لیے عدالتی عمل کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے گلیلیو، سقراط، چی گویرا، بھگت سنگھ، مہاتما گاندھی اور عمر خالد کی مثالیں پیش کیں۔


انہوں نے سوال کیا کہ اگر ان لوگوں کے پاس ان افراد کے فون نمبر موجود ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر جج کو دھمکی آمیز فون کیے تھے، تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو رہا کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں ہونے والی عوامی تحریکوں کی طرز پر ہندوستان میں احتجاج کے امکان سے متعلق سوال پر پرکاش راج نے کہا کہ ہندوستان میں آئین موجود ہے اور یہاں پرامن احتجاج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر وہ بات چیت نہیں کریں گے تو ہم انہیں ووٹ دے کر اقتدار سے باہر کر دیں گے۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تبدیلی کی شروعات اتر پردیش، گوا اور منی پور سے ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، بالآخر ملک کے عوام نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹائیں گے اور یہی اقتدار کی تبدیلی ہوگی۔

کسان رہنما چکی ننجنڈاسوامی نے کہا کہ تمام احتجاج ضلع سطح پر منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحریک کو غیر مرکزی بنانا ضروری ہے تاکہ دیہی علاقوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس میں شامل کیا جا سکے۔