دیگر ممالک

ایران سے جوہری مذاکرات جاری رہنا چاہیے: ٹرمپ

ٹرمپ کی واپسی کے بعد نیتن یاہو کا یہ چھٹا دورہ ہے اور اس دورے کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے جوہری مزاکرات جاری رہنا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر اصرار کیا لیکن خبردار کیا کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ تہران کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ رہنماؤں کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں اس وقت ہوئی جب پورے مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے بات چیت تیز ہو رہی ہے۔

Published: undefined

نیتن یاہو سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایک ایسےمعاہدے پر عمل درآمد کریں جس سے نہ صرف ایران کی یورینیم کی افزودگی روک دی جائے گی بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور حماس اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروپوں کی حمایت میں بھی کمی آئے گی۔

Published: undefined

ایران نے تجویز دی ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے دیگر مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اجلاس سے قبل، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک "ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا"۔

Published: undefined

نتن یاہو کا یہ دورہ ٹرمپ کے دفتر میں واپسی کے بعد سے امریکہ کا ان کا چھٹا دورہ ہے جو  کسی بھی دوسرے عالمی رہنما سے زیادہ ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ رہنماؤں کے درمیان ملاقات "بہت اچھی" رہی۔ انہوں نے کہا کہ "اس کے علاوہ کوئی حتمی بات نہیں ہوئی جس پر میں نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے ۔"

Published: undefined

منگل کو واشنگٹن پہنچنے کے بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان دونوں نے "گزشتہ جمعہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی پیش رفت  فراہم کی"۔

Published: undefined

نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور مظاہرین کو مارنا بند نہیں کرتا  تو اس کے انجام سنگین ہوں گے۔‘‘

Published: undefined

ایران کے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کے روز تہران میں ایک ریلی سے خطاب میں پیزشکیان نے کہا"ہمارا ایران جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا، لیکن ہم خطے میں امن و سکون کے قیام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined