بنگلہ دیش کی یونس حکومت نے ملک میں خوب مچائی لوٹ، 2 رپورٹس نے کیا انکشاف

یونس کی عبوری حکومت نے جب بنگلہ دیش میں ذمہ داری سنبھالی تھی، تب ملک بدعنوان ممالک کی فہرست میں 14ویں مقام پر تھا۔ اب گلوبل ٹرانسپیرنسی کے مطابق بنگلہ دیش بدعنوان ممالک کی فہرست میں 13ویں مقام پر ہے۔

<div class="paragraphs"><p>محمد یونس، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

18 ماہ کی مدت کار میں محمد یونس کی عبوری حکومت نے بنگلہ دیش میں خوب لوٹ مچائی ہے۔ اس بات کا انکشاف ڈھاکہ سے سامنے آئی 2 تازہ رپورٹ میں ہوا ہے۔ پہلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں 2025 میں بدعنوانی کا معاملہ بڑھا ہے، جو فکر انگیز ہے۔ بنگلہ دیش کو دنیا کے بدعنوان ممالک کی فہرست میں 13واں مقام حاصل ہوا ہے، جو کہ اس سے قبل بدعنوان ممالک کی فہرست میں 14ویں مقام پر تھا۔

دوسری رپورٹ محمد یونس اور ان کے وزراء سے متعلق آئی ہے۔ یہ رپورٹ بنگلہ دیش کی حکومت نے ہی جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے 18 وزراء کی ملکیت میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ملکیت میں یہ اضافہ کس طرح ہوا۔ کچھ وضاحت نہ ہونے سے لوگوں کے شبہات میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔


بہرحال، یونس کی عبوری حکومت نے جب بنگلہ دیش میں ذمہ داری سنبھالی تھی، تب بنگلہ دیش بدعنوان ممالک کی فہرست میں 14ویں مقام پر تھا۔ اب گلوبل ٹرانسپیرنسی کے مطابق بنگلہ دیش بدعنوان ممالک کی فہرست میں 13ویں مقام پر ہے۔ یعنی بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے معاملے پہلے سے زیادہ بڑھے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ’گلوبل ٹرانسپیرنسی‘ بدعنوانی معاملہ پر ہر سال ایک رپورٹ جاری کرتا ہے۔ اس سال رپورٹ میں امریکہ اور یوروپ سے متعلق سنگین فکر کا اظہار کیا گیا ہے۔ یوروپ کے بیشتر ممالک میں امریکہ کی طرح بدعنوانی کے معاملوں میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ڈنمارک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بدعنوانی نہ کے برابر ہے۔


ایک طرف جہاں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے معاملے بڑھے ہیں، وہیں یونس حکومت کے وزراء کی اوسط ملکیت میں 6 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ محمد یونس کی ملکیت میں بھی 1.6 کروڑ ٹکا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مشیر عادل الرحمن اور بدھان رنجن رائے پودار کی ملکیت میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حکومت کی رپورٹ کے مطابق عادل الرحمن کی مجموعی ملکیت 98 لاکھ 22 ہزار 7 ٹکا سے بڑھ کر 2 کروڑ 52 لاکھ 99 ہزار 269 ٹکا ہو گئی ہے۔ اسی طرح بدھان رنجن پودار کی ملکیت میں بھی تقریباً 1.5 کروڑ ٹکا کا اضافہ ہوا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اضافہ شدہ یہ اعداد و شمار کچھ ترمیم کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صحیح اعداد و شمار اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔