نئی قیادت منتخب کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں کل ہوگی ووٹنگ، پہلی بار ہر ووٹر کو ڈالنا ہے 2 ووٹ!

جب بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی، تو اپوزیشن پارٹیوں نے اسے ’دوسری آزادی‘ قرار دیا تھا۔ لیکن 18 ماہ بعد فروری 2026 میں صورت حال پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش انتخاب، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بنگلہ دیش میں اس وقت محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت ہے، لیکن اب 18 ماہ بعد جمعرات، یعنی 12 فروری کو بنگلہ دیش نئی قیادت منتخب کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ملک کی تاریخ میں یہ ایک ایسا موڑ ہے جو بنگلہ دیش کا مستقبل طے کرے گا۔ یہ انتخاب فیصلہ کرے گا کہ ڈھاکہ کی حکمرانی لبرل جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں ہوگی یا یہاں بھی شدت پسند طاقتیں قبضہ جما لیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں اپریل 2024 میں ہی انتخابات ہوئے تھے۔ اب یہ ملک 2 سال سے بھی کم عرصہ میں ایک بار پھر نئی حکومت کا منتظر ہے۔ گزشتہ 18 ماہ بنگلہ دیش کے لیے آسان نہیں رہے۔ ان 18 مہینوں میں بنگلہ دیش تشدد، آتش زنی، لوٹ مار اور بدانتظامی کا شکار رہا۔ اگست 2024 میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے انقلاب نے شیخ حسینہ کی 15 سال پرانی حکومت کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ حکومت کے زوال کے فوراً بعد حسینہ ہندوستان میں پناہ لی۔ اس دوران بنگلہ دیش میں تشدد میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔


جب بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی، تو بنگلہ دیش کی اپوزیشن پارٹیوں نے اسے ’دوسری آزادی‘ قرار دیا تھا۔ لیکن 18 ماہ بعد فروری 2026 میں صورت حال پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی تشدد، موب لنچنگ اور مذہبی شدت پسندی کے عروج نے بنگلہ دیش کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس ملک کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ بنگلہ دیش میں تشدد نے وہاں کے اقلیتی طبقہ کو سیاسی، سماجی و اقتصادی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔

بہرحال، اب بنگلہ دیش کی عوام ایک نئی قیادت کو منتخب کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ الیکشن کمیشن نے سخت سیکورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تقریباً 10 لاکھ سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو ملک کی انتخابی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا انتظام ہے۔ 13ویں پارلیمانی انتخابات ایک مشکل 84 نکاتی اصلاحاتی پیکیج پر ریفرنڈم کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ اس انتخاب میں اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کی سابق اتحادی ’جماعت اسلامی‘ کے درمیان ہے۔ بنگلہ دیش کے 299 پارلیمانی حلقوں میں جمعرات کی صبح 7.30 بجے سے ووٹنگ شروع ہوگی اور شام 4.30 بجے تک جاری رہے گی۔ ایک امیدوار کی موت کی وجہ سے ایک حلقہ میں ووٹنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔ ووٹنگ ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔


اس انتخاب میں 50 سیاسی پارٹیوں کے مجموعی طور پر 1,755 امیدوار اور 273 آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ بی این پی نے سب سے زیادہ 291 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ 83 خواتین امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ اس انتخاب میں بنگلہ دیش کے تقریباً 12.7 کروڑ ووٹر ووٹ ڈالیں گے، جبکہ ملک کی آبادی 17 کروڑ ہے۔ ووٹنگ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوگی۔ انتخابات کی نگرانی کے لیے 500 غیر ملکی مبصرین بنگلہ دیش آ رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس بار بنگلہ دیش میں ہر ووٹر کو 2 ووٹ ڈالنے ہوں گے۔ پہلا ووٹ پارلیمانی انتخاب کا ہوگا اور دوسرا آئینی ریفرنڈم کا۔ یہ پہلی بار ہے جب ایک ہی دن 2 الگ الگ ووٹنگ ہو رہی ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کا ووٹ سفید بیلٹ پیپر پر ڈالا جائے گا، جبکہ ریفرنڈم کے لیے ووٹ گلابی بیلٹ پیپر پر ہوگا۔ ریفرنڈم طلبا تحریک کے بعد بنائے گئے اصلاحاتی پیکیج سے متعلق ہے، جس میں ووٹرس کو ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کا متبادل دیا گیا ہے۔

یہ بنگلہ دیش کا وہ انتخاب ہے جس میں دہائیوں بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں اس بار بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو انتخابی دوڑ میں سب سے آگے مانا جا رہا ہے۔ اس وقت بی این پی کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے۔ بی این پی نے طارق رحمان کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا ہے۔ طارق رحمان 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں بنگلہ دیش لوٹے اور انہوں نے جمہوری اداروں کی از سر نو تعمیر، قانون کی حکمرانی کی بحالی اور معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کا وعدہ کیا ہے۔


بی این پی کو چیلنج دینے کے لیے 11 پارٹیوں کا ایک بڑا اتحاد ہے، جس کی قیادت ’جماعت اسلامی‘ کر رہی ہے، جو قومی سیاست میں اپنا اثر بڑھانا چاہتی ہے۔ شیخ حسینہ کے دور میں جماعت اسلامی پر پابندی تھی، لیکن ان کے ہٹنے کے بعد اس کا اثر بڑھا ہے۔ اس اتحاد میں نئی قائم شدہ نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے، جسے 2024 کی بغاوت کے رہنماؤں نے تشکیل دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں 350 ارکان ہوتے ہیں۔ ان میں سے 300 ارکان براہ راست سنگل ممبر حلقوں سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ یہاں انتخابات ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ نظام کے تحت ہوتے ہیں اور ہر پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہوتی ہے۔