شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند کا جگد گرو رام بھدراچاریہ کے خلاف سنگین الزام

شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی نے کہا کہ رام بھدراچاریہ اور سرکاری مشینری جیوتش پیٹھ کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

شنکراچاریہ اوی مکتیشورا نندنے جگد گرو رام بھدراچاریہ پر بہت سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام بھدراچاریہ اور سرکاری مشینری جیوتش پیٹھ کو بدنام کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ چونکہ بدنام کرنے کی سازش ناکام ہوئی، اس لیے پوکسو(پی او سی ایس او) ایکٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 28 جنوری کو آشوتوش برہما چاری نامی شخص نے عدالت میں عرضی دائر کی تھی جس میں پوکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

9 فروری کو شنکراچاریہ کا نمائندہ عدالت میں حاضر ہوا اور ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ عدالت نے شکایت کنندہ سے 20 فروری تک جواب طلب کیا ہے۔ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی مہاراج نے اتر پردیش کی حکومت کو گائے کو ’ملک کی ماں‘ یعنی’ راشٹر ماتا‘ کے طور پر عزت دینے اور گائے کے ذبیحہ سے پاک ہندوستان کے حصول کے لیے اتر پردیش حکومت کو  چالیس دن کا وقت دیا، اسی وقت حکومت کی حمایت یافتہ نام نہاد مذہبی رہنماؤں کا ایک گروہ سرگرم ہوگیا۔ شنکراچاریہ سے متعلق ایک گمراہ کن، جھوٹی، بے بنیاد اور ہتک آمیز خبر شائع کی گئی، جو کہ قواعد کے خلاف ہے۔


اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوی مکتیشورانند سرسوتی کے خلاف پوکسوایکٹ کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں کوئی شکایت درج کی گئی ہے۔ اور نہ ہی پریاگ راج کی کسی عدالت نے انہیں سمن جاری کیا ہے۔ ایسے میں ان کے کسی وکیل کے 10 فروری کو جواب داخل کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ 28 جنوری کو آشوتوش برہمچاری اور ایک اور شخص نے پوکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پریاگ راج کی ایک عدالت میں درخواست دی، لیکن عدالت نے فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور پولیس سے رپورٹ طلب کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔