یہ ’ٹرمپ ڈیل‘ کسانوں کی کمر توڑ دے گی... میناکشی نٹراجن

کسان منظم ہوں، اپنے آپ کو دبانے والی عالمی طاقتوں سے لڑیں، یہی بھائی چارے کی سیاست ہوگی۔ ورنہ کچھ ہی دنوں میں ہمارے کسان اپنی ہی زمین پر دنیا کے کسی کارپوریٹ کے لیے فصل اگاتے رہ جائیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

میناکشی نٹراجن

آئین ایک مساوات پر مبنی سماج کا نقشہ ہے۔ مساوات کی بنیاد بھائی چارے پر قائم ہے۔ یہ ایک انقلابی دستاویز ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ فرانسیسی انقلاب کا مقصد بھی آزادی، مساوات اور بھائی چارہ تھا۔ فرانسیسی انقلاب دنیا بھر میں نئے ترقی پسند سماجی نظام کا آغاز تھا۔ بھائی چارہ کو توڑ کر مساوات قائم نہیں کی جا سکتی۔ گاندھی کی سیاست بھائی چارہ پر مبنی تھی، جہاں استحصال کرنے والے خود احتسابی کریں اور استحصال کی عادت کو پہچانیں۔ خود ہی مظلوم کے انصاف کی وکالت کریں۔ اس ڈھانچے میں اپنے سے کمزور کی آنکھوں میں آنسو لانے کو حق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اپنے سے طاقتور کے آگے گھٹنے بھی نہیں ٹیکے جاتے تھے۔ جدوجہد کے میدان سے منھ نہیں موڑا جاتا تھا، اور نہ ہی اپنے فرض کی ادائیگی کی باری آنے پر کوئی رہنما یہ کہہ دیتا تھا کہ ’’جو مناسب لگے وہ کرو۔‘‘

’وائیکوم مندر داخلہ ستیہ گرہ‘ کی قیادت اس طبقہ نے کی جس کا داخلہ بلا روک ٹوک تھا۔ اس طبقہ کے 10 ہزار افراد نے جھنڈا اٹھا کر تحریک چلائی، ان لوگوں کے حق میں جن کے داخلے کو بااثر گروہ نے ہزاروں برس سے روکے رکھا تھا۔ یہ گاندھی کی سیاست تھی۔ گزشتہ عرصے میں ہر گروہ کو دوسرے سے خوف زدہ کر کے سیاست کی جا رہی ہے۔ یہ خیال رہنا چاہیے کہ حاشیہ پر کھڑے طبقہ کو بیدار کرنا، جدوجہد کے لیے کھڑا کرنا اور منظم کرنا تقسیم کرنے والی سیاست نہیں ہے، بلکہ سب سے کمزور کی جانب سے آواز اٹھانے کو طبقاتی جدوجہد قرار دینا سراسر جھوٹ ہے۔ کمزور بہوجن سماج کو فرماں بردار رکھنا غیر مساوات کو فروغ دینا ہے۔ ان کی بیداری سے ڈرنا اور انہیں ڈرانا تقسیم پیدا کرنا ہے۔ ایسی سیاست کمزور کا استحصال اور طاقتور کے آگے جھکنا سکھاتی ہے۔ یہی اس وقت ہو رہا ہے۔


دیہی معیشت میں ایک چھوٹے زمیندار طبقہ کو منریگا کے خاتمہ میں کچھ راحت نظر آئی۔ مزدوری کی شرح کم ہوگی اور کچھ بچت ہو جائے گی۔ گاندھی کی سیاسی ساخت میں شاید زمین کے مالک یہ آواز اٹھاتے کہ مزدوری کی شرح برقرار رہے، مہنگائی کے تناسب سے مزدوری بڑھے، مزدور کو سال بھر کام مانگنے کا حق ہو۔ وہ اپنے سے زیادہ طاقتور سے لڑتے، مناسب قیمت کے لیے آواز بلند کرتے، نہ خود کا استحصال ہونے دیتے اور نہ ہی اپنے سے کمزور کا استحصال کرتے۔ لیکن اس وقت اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ مزدوری کم ہونے کا انتظار کرتے زمیندار اس بات سے بے خبر رہے کہ اب ان کی قیمتیں اور زیادہ گرنے والی ہیں۔ جتنی بچت مزدوری کم ہونے سے ہوگی، اس سے کئی گنا زیادہ ضرب ’ٹرمپ ڈیل‘ سے لگنے والی ہے۔ خاص طور پر سویابین اور سیب پیدا کرنے والے کسانوں کا مستقبل سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ مغربی مدھیہ پردیش میں سویا بین پیدا کرنے والے کسان پہلے ہی بڑھی ہوئی لاگت سے نبرد آزما ہیں۔ ارجنٹائنا اور برازیل سے درآمد شدہ سویا آئل اور کھلّی کی وجہ سے قیمتیں بہت کم ہو گئی ہیں۔ چین میں جانوروں کی خوراک کے لیے کھلّی کا استعمال ہوتا تھا، اس لیے ابتدا میں برآمد ہوتی رہی اور قیمتیں بڑھتی گئیں۔ پھر برازیل اور ارجنٹائنا کے بازار میں آنے سے قیمت کم ہونے لگی۔ اوپر سے تیل کی درآمد پر تقریباً 16 فیصد کسٹم ڈیوٹی دینے کے باوجود بھی وہ سستا پڑنے لگا ہے۔ دیسی تیل کارخانے بند ہونے لگے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ کم از کم امدادی قیمت سے 26 فیصد کم پر سویابین کی خرید ہو رہی ہے۔ سویا بین کی امدادی قیمت تقریباً 5328 ہے اور 3942 میں خرید ہو رہی ہے۔ یہی حال مکئی کا ہے۔ 2400 کی امدادی قیمت ہے، مگر اس سے 24 فیصد کم پر خرید ہو رہی ہے۔

اگر ایک بیگھہ کی پیداوار لاگت کو سمجھیں تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ موافق وقت اور موسم میں ایک بیگھہ میں 3 سے 5 کوئنٹل پیداوار ہوتی ہے، لیکن موسمی خرابی سے یہ 50 کلو یا ایک کوئنٹل رہ جاتی ہے۔ ایک بیگھہ میں 20 سے 25 کلو بیج لگتے ہیں جو تقریباً 1500 روپے کے ہوتے ہیں۔ جوتائی اور بوائی میں تقریباً ایک ہزار روپے لگتے ہیں۔ 1500 دوا کا خرچ، 600 روپے چھڑکاؤ پر، 850 کی کھاد، 3000 روپے سنڈی سے بچاؤ کے لیے اسپرے، کٹائی اگر مشین سے ہو تو 2000 اور مزدور سے بھی اتنا ہی، ہاتھ کی کٹائی کے بعد تھریشنگ میں تقریباً 500 روپے لگ جاتے ہیں، پھر اپنی مزدوری اور نقل و حمل کا خرچ۔ چونکہ یہ برسات کی فصل ہے اس لیے آبپاشی بجلی پر منحصر نہیں، اس طرح کل خرچ تقریباً 13,950 روپے ہو رہا ہے۔ فی کوئنٹل 3,942 کے حساب سے 3 کوئنٹل پیداوار پر بھی 11,826 روپے ملتے ہیں۔ 5 کوئنٹل بہترین پیداوار مانی جاتی ہے، جو ہمیشہ ممکن نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تو بالکل نہیں۔ تو کیا بچت ہو رہی ہے؟


اب ’ٹرمپ ڈیل‘ میں اس کا کیا انجام ہوگا، آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے۔ سویا آئل درآمد ہوگا، اس پر کوئی ڈیوٹی نہیں لگے گی، اس لیے وہ سستا پڑے گا۔ ٹرمپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ غیر جی ایم پیداوار کی برآمد کی شرط رکاوٹ ہے، یعنی کچھ ہی عرصہ میں جی ایم سویا بازار میں آئے گا۔ اگرچہ خوراک میں جی ایم پر پابندی ہے، لیکن جی ایم سویا سے بنے ڈسٹلرز ڈرائیڈ گرین وتھ سولیوبلز کو بالواسطہ داخلہ ملے گا۔ یہ سستا ہوگا اور زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ یہ جانوروں کی خوراک میں استعمال ہوتا ہے۔ پھر نان ٹیرف رکاوٹوں پر بھی امریکی مطالبات کے آگے کب تک ’جو مناسب لگے کرو‘ نہیں کہا جائے گا۔ اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ ٹرمپ کے آگے جھکنے کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ سویا کھلّی سستی ہوتے ہی سویابین پیدا کرنے والے کسان گرتی قیمتوں سے دو چار ہوں گے۔

اب اچانک زرعی مصنوعات کو فہرست سے ہٹائے جانے سے شبہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اصل منشا کیا ہے۔ خاص طور پر جب دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں شفافیت نظر نہیں آتی اور صرف پیش کش کا پہلو دکھائی دیتا ہے۔ ٹیرف ڈیل میں وہ ممالک فائدے میں رہتے ہیں جہاں پہلے سے ہی ٹیرف کم ہوتا ہے۔ ان کی مصنوعات کو معمولی سی گرتی ہوئی قیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ جہاں ٹیرف زیادہ رہا ہو وہاں بڑی کمی لانی پڑتی ہے۔ اس غیر مساوی حالات سے ایک ملک کو بہت فائدہ اور دوسرے کو بڑا نقصان ہوتا ہے، یہ باہمی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر جاپان کے ساتھ ڈیل میں جاپانی اشیا کو معمولی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کی تلافی تکنیکی جدت سے ہو گئی، لیکن ہمیں اتنی قیمت کم کرنی پڑی کہ پیداوار ہی ناممکن ہو جائے۔ آج جاپان کے ساتھ معاہدے کے بعد ہندوستان کا تجارتی خسارہ 12.6 بلین ڈالر ہے، جو ہماری درآمدات و برآمدات کے درمیان فرق ہے۔


آج ٹیرف کم کروانے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ یہ بھی سمجھا جائے کہ جوہری معاہدے کے بعد آنجہانی منموہن سنگھ کے دور میں ہندوستان پر مجموعی 2.98 فیصد ٹیرف تھا، جو بعد میں بڑھا کر تقریباً 50 فیصد کیا گیا۔ اب اسے کم کر کے 18 فیصد کیا گیا ہے، لیکن کہاں 2.98 فیصد اور کہاں 18 فیصد۔ یہ تو چھوٹے اور درمیانے شہروں کی سیل رعایت جیسا ہے۔

کسان منظم ہوں، مزدوروں کے ساتھ مل کر اپنے آپ کو دبانے والی عالمی طاقتوں سے لڑیں، یہی بھائی چارے کی سیاست ہوگی۔ ورنہ کچھ ہی دنوں میں ہمارے کسان اپنی ہی زمین پر دنیا کے کسی کارپوریٹ کے لیے فصل اگاتے رہ جائیں گے۔ ہم محض بازار بن جائیں گے۔ اس بار کی غلامی نظر بھی نہیں آئے گی۔ بازار کی غلامی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں وقت ہے کہ اپنے سے کمزور کی آنکھ کے آنسو پونچھتے ہوئے سچ کے لیے کھڑا ہوا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔