
انسٹاگرام
امریکہ کے لاس ایجنلس میں ان دنوں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک بڑا مقدمہ چل رہا ہے۔ اسی سماعت کے دوران انسٹاگرام کے چیف ایڈم موسیری نے عدالت میں کہا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کے ’کلینیکلی ایڈیکٹڈ‘ یعنی طبی طور پر اس کی لت کے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی خاندان الزام عائد کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ اس کیس میں میٹا (انسٹاگرام اور فیس بک کی کمپنی) اور گوگل کا یوٹیوب مرکزی ملزمان ہیں۔ ٹک ٹاک اور اسنیپ پہلے ہی سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کا اثر ہزاروں ایسے معاملوں پر پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
اس مقدمے کے مرکز میں 20 سال کی ایک نوجوان لڑکی ہے، جس کی شناخت کے جی ایم نام سے کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مزید 2 لوگوں کے معاملات کو ٹیسٹ کیس کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ان معاملات کے ذریعہ یہ دیکھا جائے گا کہ جیوری کس کی دلیل کو زیادہ مضبوط تسلیم کرتی ہے۔ خاندان کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے ایسے فیچرز اور الگورتھم بنائے ہیں جو بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر روکے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے بچوں میں ڈپریشن، بے چینی اور دیگر ذہنی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
Published: undefined
عدالت میں ایڈم موسیری نے کہا کہ کسی چیز کا زیادہ استعمال اور طبی لت دونوں الگ باتیں ہیں۔ ان کے مطابق کئی لوگ انسٹاگرام پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور بعد میں انہیں برا لگتا ہے، لیکن اسے بیماری کہنا درست نہیں ہے۔ مدعی کے وکیل نے ان کے پرانے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے۔ اس پر موسیری نے کہا کہ پہلے انہوں نے یہ لفظ عام بات چیت میں استعمال کیا تھا، لیکن اب وہ زیادہ احتیاط برتتے ہیں۔
Published: undefined
سماعت کے دوران انسٹاگرام کے بیوٹی فلٹرس پر بھی سوال اٹھے۔ الزام ہے کہ یہ فلٹرس چہرہ اس طرح بدلتے ہیں کہ نوجوانوں میں اپنے جسم کو لے کر عدم اطمینان بڑھ سکتا ہے اور پلاسٹک سرجری جیسی چیزوں کا دباؤ بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنوری 2025 میں میٹا نے تھرڈ-پارٹی اے آر فلٹرس بند کر دیے تھے۔ عدالت میں موجود کچھ والدین اس معاملے پر جذباتی بھی ہو گئے، جس کے بعد جج کو انہیں خاموش رہنے کی ہدیات دینی پڑی۔
Published: undefined
میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے کئی نئے فیچر شامل کیے ہیں۔ لیکن ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ریسرچ کے دوران بنائے گئے ’ٹین اکاؤنٹس‘ کو اب بھی غیر مناسب جنسی مواد اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تجویز کیا گیا۔ کمپنی نے ان الزامات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined