
ایرانی پرچم، تصویر آئی اے این ایس
ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے فرانسیسی حکومت کو ایران کے اندرونی معاملات میں ’غیر قانونی مداخلت‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔ وزارت نے ہفتہ (15 اگست) کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ جولائی میں تہران میں 2 فرانسیسی سفارت کاروں نے غیر ملکی دراندازی اور مداخلت سے متعلق ایک بڑے معاملے کے مشتبہ افراد کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات میں شرکت کی تھی۔ تحقیقات کے بعد وزارت نے کہا کہ ان سفارت کاروں کا ایران کے ملکی قوانین اور اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایک طویل ریکارڈ رہا ہے۔
وزارت نے کہا کہ وہ ایران میں غیر ملکی سفارت کاروں کو ’غیر قانونی مداخلت‘ پر مبنی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا رویہ دوبارہ سامنے آیا تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ یہ اطلاع ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی نے دی ہے۔ 20 جولائی کو فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے کہا تھا کہ تہران میں فرانسیسی سفارت خانے کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سفارت خانے واپس جانے سے پہلے دونوں کو بلاوجہ کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان میں سے ایک کے ساتھ جسمانی بدسلوکی بھی کی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اب دونوں محفوظ ہیں اور چند ہی گھنٹوں میں فرانس واپس جانے والے ہیں۔‘‘
جین نوئل بیروٹ نے مزید کہا کہ ’’یہ حملہ اس لیے اور بھی حیران کن ہے کہ یہ دونوں اہلکار سول سوسائٹی، خاص طور پر ایرانی فن کاروں اور سائنس دانوں کی مدد کرنے والے ہمارے پروگراموں کی نگرانی کرتے ہیں۔‘‘ ایک بیان میں انہوں نے اس واقعے کو ’حیران کن‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کو خبردار کیا تھا کہ اس سنگین اور ناقابل قبول واقعے کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ بعد میں عراقچی نے بیروٹ سے فون پر بات چیت کے دوران احتجاج درج کرایا اور کہا کہ دونوں فرانسیسی سفارت کاروں کی غیر معمولی سرگرمیاں سفارتی ضابطوں کے خلاف اور ناقابل قبول تھیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔