
خامنہ ای / ڈونالڈ ٹرمپ
ایران کی سڑکوں پر جاری ہنگامہ کو قابو میں کرنے کے لیے آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت نے ’بسیج‘ نامی نیم فوجی دستہ کو میدان میں اتار دیا ہے۔ حقوق انسانی کمیشن کے مطابق اس گروپ نے ایران میں اب تک 500 فسادیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسے ایران کا سب سے خونخوار فوجی گروپ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے، جو حکومت کے خلاف داخلی بغاوت کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعہ (9 جنوری) کو نمازِ جمعہ کے بعد علی خامنہ ای نے ملک کے نام ایک خطاب کیا تھا۔ اس میں انھوں نے احتجاجی مظاہرہ کے پیچھے کی وجہ امریکہ کا سازش پر مبنی ایجنڈا قرار دیا تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کسی کے بھی سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی سفارش پر ’بسیج‘ کو سڑکوں پر اتارنے کا فیصلہ لیا گیا۔
Published: undefined
’بسیج‘ ایک فارسی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ’یکجا ہونا‘۔ 1979 میں انقلاب اسلامی کے بعد نیم فوجی دستہ ’بسیم‘ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس وقت انقلابِ اسلامی کے لیڈر علی خمینی کا ماننا تھا کہ یہ تنظیم ہمیشہ ایران کو امریکہ سے محفوظ رکھے گا۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ نیم فوجی دستہ ’بسیج‘ میں دیہی اسلامی قدامت پسند پس منظر کے لوگوں کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر یہ دستہ مسجد کے ذریعہ لوگوں کو قابو میں کرتا ہے۔ بڑے پیمانہ پر اس تنظیم کو ایران ریولیوشنری گارڈ کنٹرول کرتا ہے۔ اس تنظیم میں تقریباً 2 کروڑ فوجی ہیں، جن کی عمر 18 سے 50 سال کے درمیان ہے۔ 2009 اور 2022 کے دوران اسی ’بسیج‘ نامی تنظیم نے ایران میں انقلاب کو دبایا تھا۔ اب ایک بار پھر ایران میں انقلاب کو پست کرنے کی ذمہ داری ’بسیج‘ کو سونپی گئی ہے۔
Published: undefined
توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ’بسیج‘ اور اس کے کچھ کمانڈرس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسے امریکہ ایک خونخوار تنظیم تصور کرتا ہے۔ بین الاقوامی حقوق انسانی کمیشن کے مطابق بسیج گروپ ایران میں عدم اتفاق کی لہروں کو تشدد آمیز طریقے سے کچلنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ ایران میں 27 دسمبر 2025 سے ہی مہنگائی کو لے کر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، جو کہ حکومت کے خلاف ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے مطابق مظاہرین کا جو مطالبہ ہے، وہ جائز ہے لیکن کچھ فسادیوں نے پورے مظاہرے کو ہائی جیک کر لیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined