روس سے تیل کی خرید پر امریکی بیان، کانگریس کا سخت ردعمل، وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر سوال

وائٹ ہاؤس کے اس بیان پر کہ امریکہ نے ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دی ہے، کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے اسے خودمختاری کی توہین قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

روس سے تیل کی خرید کے معاملے پر وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے بعد کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی خودمختاری اور وقار کے حوالے سے اٹھنے والے اس معاملے پر حکومت کی خاموشی تشویش کا باعث ہے۔

کانگریس کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو روسی تیل قبول کرنے کی اجازت دی ہے اور ہندوستانیوں کو ’اچھے کردار ادا کرنے والے‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے اس بیان کے الفاظ کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ’اجازت دی‘ اور ’اچھے کردار ادا کرنے والے‘ جیسے الفاظ کسی خودمختار ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے۔


بیان میں کہا گیا کہ حکومت ہند اس واضح توہین پر اعتراض کیوں نہیں کر رہی۔ کانگریس کے مطابق ایک غیر ملکی حکومت کے نمائندے کی جانب سے اس طرح کے الفاظ استعمال کیے جانا ہندوستان کی خودمختاری اور وقار کے لیے سوال کھڑے کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کانگریس نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کے وقار کے دفاع کے بجائے نمایاں طور پر خاموش دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ایسے میں ملک کو سوال پوچھنے کا حق ہے کہ آخر وزیر اعظم کس بات سے خوفزدہ ہیں، ہندوستان کے فیصلے بیرون ملک سے کیوں طے کیے جا رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ ڈالے جانے کے خدشات پر حکومت وضاحت نہیں دے رہی۔

بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کے عوام اس معاملے پر واضح جواب کے مستحق ہیں کیونکہ ملک کی خودمختاری کوئی قابلِ سودے بازی معاملہ نہیں ہے۔


خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے بحران کے باعث عالمی تیل سپلائی میں پیدا ہونے والے عارضی خلا کو پُر کرنے کے لیے امریکہ نے ہندوستان کو عارضی طور پر روسی تیل قبول کرنے کی اجازت دی ہے۔ پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق یہ اقدام عالمی توانائی بازار کو مستحکم رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔