لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک، جے رام رمیش نے نہرو کی 1954 کی مثال دہراتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا
لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر جاری بحث کے دوران جے رام رمیش نے اپنی پرانی پوسٹ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 1954 میں جواہر لال نہرو نے اپوزیشن کو زیادہ وقت دینے کی درخواست کی تھی

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے لوک سبھا میں اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک پر جاری بحث کے درمیان اپنی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے موجودہ پارلیمانی صورت حال پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی 10 فروری کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے 1954 میں ہونے والی پارلیمانی بحث اور اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے طرز عمل کا حوالہ دیا۔
جے رام رمیش نے اپنی تازہ پوسٹ میں کہا کہ لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر ہونے والی بحث کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر نے یہ بات فخر کے ساتھ کہی کہ اس بار بحث کے لیے دس گھنٹے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دسمبر 1954 میں اسی نوعیت کی تحریک پر صرف ڈھائی گھنٹے کا وقت مقرر تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس موازنہ کے دوران کئی اہم پہلوؤں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 18 دسمبر 1954 کو جب لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر بحث ہوئی تھی تو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نہ صرف ایوان میں موجود رہے بلکہ انہوں نے خود بحث میں حصہ بھی لیا۔ جے رام رمیش کے مطابق نہرو نے اس موقع پر ایوان کی صدارت کرنے والے نائب اسپیکر سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے میں اپوزیشن کو حکومت کے مقابلے میں زیادہ وقت دیا جائے۔
کانگریس رہنما نے اپنی ری پوسٹ کی گئی پرانی پوسٹ میں اس تاریخی بحث کے ابتدائی لمحوں کا حوالہ بھی پیش کیا تھا۔ اس کے مطابق نائب اسپیکر نے ایوان کو بتایا تھا کہ تحریک پر بحث کے لیے ڈھائی گھنٹے کا وقت رکھا گیا ہے۔ اس پر جواہر لال نہرو نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ عام طور پر وقت کی تقسیم ایک تناسب کے مطابق ہوتی ہے لیکن اس خاص معاملے میں اپوزیشن کو زیادہ وقت ملنا چاہیے اور حکومت کے اراکین کم وقت لیں گے۔
جے رام رمیش نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پہلی لوک سبھا میں کانگریس کو بھاری اکثریت حاصل تھی۔ اس وقت ایوان کی کل 489 نشستوں میں سے 364 نشستیں کانگریس کے پاس تھیں، اس کے باوجود نہرو نے اپوزیشن کو زیادہ موقع دینے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں باضابطہ طور پر قائد حزب اختلاف کا عہدہ بھی موجود نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود پارلیمانی روایت اور بحث کے اصولوں کا خیال رکھا گیا۔
انہوں نے اپنی تازہ پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ 1954 کے علاوہ 1966 اور 1987 میں جب بھی اسپیکر کے خلاف تحریک پر بحث ہوئی تو اس دوران لوک سبھا میں نائب اسپیکر موجود تھے اور وہی ایوان کی کارروائی کی صدارت کرتے تھے۔ ان کے مطابق 2019 کے وسط سے اب تک لوک سبھا میں نائب اسپیکر کا تقرر نہیں کیا گیا، جسے انہوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ جواہر لال نہرو نے پارلیمنٹ کے ادارے کو روزانہ ایوان میں بیٹھ کر، بحث میں حصہ لے کر اور مختلف آوازوں کو جگہ دے کر مضبوط کیا تھا، لیکن ان کے مطابق آج وہی پارلیمنٹ اپنی سابقہ روح سے بہت دور دکھائی دیتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔