دیگر ممالک

ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ تک حساس معلومات فراہم کرنے کے جرم میں اپنے شہری حسین پدران کو سزائے موت دے دی

ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ ’’حسین پدران نے صوبہ اصفہان میں موجود حساس فوجی ٹھکانوں سے متعلق خفیہ معلومات غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو بھیجی تھیں، جن میں امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں شامل تھیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

ایران نے اسرائیل کو حساس فوجی معلومات فراہم کرنے کے جرم میں اپنے ایک شہری کو پھانسی دے دی ہے۔ ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ کے مطابق حسین پدران پر جاسوسی اور اسرائیل کے حق میں خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام تھے۔ الزام ہے کہ اس نے صوبہ اصفہان میں موجود حساس فوجی ٹھکانوں سے متعلق معلومات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد تک پہنچائی تھی۔ عدلیہ نے بتایا کہ حسین پدران کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ معاملے میں عدالت نے اسے قصوروار ٹھہرایا۔ نچلی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ حسین پدران نے صوبہ اصفہان میں موجود حساس فوجی ٹھکانوں سے متعلق خفیہ معلومات غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو بھیجی تھیں، جن میں امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں شامل تھیں۔ ایرانی افسران کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس معلومات کے بدلے مالی فائدہ بھی حاصل کیا۔ عدلیہ نے کہا کہ پوچھ گچھ کے دوران پدران نے خود بھی اس عمل میں مالی فائدہ ملنے کی بات قبول کی تھی۔ حالانکہ یہ تمام دعوے ایرانی عدلیہ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے مطابق 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ملک کے کئی حساس فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران کا الزام ہے کہ ان حملوں میں کچھ مقامی لوگوں یا کرایے کے لوگوں نے بھی مدد کی تھی۔ ایرانی افسران نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ایسے لوگوں کا کردار سامنے آیا جو حساس معلومات غیر ملکی ایجنسیوں تک پہنچا رہے تھے۔ اسی تحقیقات میں حسین پدران کا نام بھی سامنے آیا۔

ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ حسین پدران نے حساس اور خفیہ معلومات اسرائیلی اور امریکی خفیہ اداروں کو بھیجی تھیں۔ اس پر خاص طور سے فوجی ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ معاملے میں جاسوسی اور غیر ملکی طاقت کے لیے خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام عائد کیے گئے۔ قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد سزا کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد ایران نے حسین پدران کو پھانسی دے دی۔ قابل ذکر ہے کہ ایران پہلے بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں لوگوں کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے۔ اس معاملے میں بھی ایرانی عدلیہ نے حسین پدران کو ملک کی سلامتی سے متعلق معاملات میں قصوروار قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔