
جیل کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے اسپائنل امپلانٹ کمپنی کے ہند نژاد چیف مالیاتی افسر (سی ایف او) کو 4 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ وہ سرجنوں کو رشوت دینے کے معاملے میں قصوروار پائے گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی ایف او نے کمپنی کی مصنوعات استعمال کرنے کے لیے سرجنوں کو رشوت دینے کی کوشش کی۔ اس تعلق سے حکام کا کہنا ہے کہ سرجنوں کو یہ رشوت فرضی مشاورتی فیس کی شکل میں دی گئی تھی۔
قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد کیمبرج کے رہائشی 41 سالہ آدتیہ ہومڈ کو ایک سال تک نگرانی میں رہنا ہوگا اور ان پر 9,500 امریکی ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ہومڈ نے اینٹی کک بیک قانون کی خلاف ورزی کی سازش رچنے کے الزام میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ ہومڈ پر ستمبر 2021 میں اسپائن فرنٹیئر نامی کمپنی کے بانی، صدر اور چیف ایگزیکٹو افسر کنگسلی آر. چن کے ساتھ الزامات عائد کیے گئے تھے۔
میساچوئٹس ضلع کے امریکی اٹارنی دفتر نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ہومڈ نے سرجنوں کو 5,40,000 امریکی ڈالر سے زیادہ کی رشوت دینے اور دلوانے کی سازش رچی۔ یہ رقم ایسی فرضی مشاورتی فیس کی شکل میں دی گئی، جس کے لیے سرجنوں نے حقیقت میں کوئی کام نہیں کیا تھا۔ حکام کے مطابق ہومڈ نے سرجنوں کو کمپنی کی مصنوعات استعمال کرنے کے لیے رشوت دینے کی سازش کی۔ اس کے بدلے کمپنی کو ان سرجنوں کی جانب سے کی جانے والی سرجریوں سے لاکھوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔
امریکی اٹارنی لیہ بی. فولی نے کہا کہ ہومڈ کو پیچیدہ ریڑھ کی ہڈی کی سرجریوں میں ڈاکٹروں کو کمپنی کی مصنوعات استعمال کرنے پر آمادہ کرنے کے مقصد سے رشوت دینے کی سازش رچنے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے اور سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فوجداری اور دیوانی کارروائیوں میں ہم نے ان عہدیداروں، ان کی کمپنیوں اور رشوت لینے والے ڈاکٹروں سے 40 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کی رقم برآمد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ خواہ کتنا ہی پیچیدہ ہو یا اس میں کتنا ہی وقت لگے، ہم صحت کی دیکھ بھال سے متعلق دھوکہ دہی کے جرائم کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔