جاپان کے آئیچی ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا ہوا شاندار اختتام، 2030 میں قطر کے دوحہ میں ہوگی ملاقات

2030 میں قطر دوسری بار ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا۔ اس سے قبل 2006 میں بھی دوحہ نے کامیابی کے ساتھ اس بڑے ایونٹ کی میزبانی کی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>ایشین گیمز، تصویر سوشل میڈیا&nbsp;@ASIANGAMESs2026</p></div>
i

جاپان کے آئیچی ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا اختتام ہو چکا ہے۔ اختتامی تقریب کے دوران آج ایشین گیمز کا آفیشیل پرچم قطر کی راجدھانی دوحہ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے بعد دوحہ کو باضابطہ طور پر 21ویں ایشین گیمز کی میزبانی مل گئی ہے۔ اولمپک کونسل آف ایشیا نے 16 دسمبر 2020 کو مسقط میں منعقدہ جنرل اسمبلی میں دوحہ کو 2030 ایشین گیمز کی میزبانی کا حق دیا تھا۔ قطر میں دوسری بار ایشین گیمز کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل 2006 میں بھی دوحہ نے کامیابی کے ساتھ اس بڑے ایونٹ کی میزبانی کی تھی۔

دوحہ 2030 آرگنائزنگ کمیٹی کے سی ای او احمد عبداللہ البوعینین نے حال ہی میں ناگویا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام مقابلوں کے مقامات پہلے سے تیار ہیں۔ نئے مقامات بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ قطر 2006 کے ایشین گیمز اور 2022 فیفا ورلڈ کپ کے لیے بنائی گئی جدید سہولیات کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’[ہمارے پاس مکمل انفراسٹرکچر تیار ہے۔ بس موجودہ مقامات کا صحیح استعمال کرنا ہے۔‘‘ آئندہ ایشین گیمز کا ممکنہ پروگرام 4 سے 19 نومبر 2030 تک ہے۔


او سی اے (اولمپک کونسل آف ایشیا) اور آئی او سی (انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی) کے درمیان کیلنڈر کو لے کر بات چیت جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ایشین گیمز کو 2030 کے بجائے 2031 میں منتقل کیا جا سکتا ہے، تاکہ یہ برسبین اولمپک 2032 سے ٹھیک پہلے ہوں اور اولمپک کوالیفکیشن میں مددگار ثابت ہوں۔ قطر کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خواہ 2030 ہو یا 2031، وہ پوری طرح تیار ہے۔ یہ ایشین گیمز جزیرہ نما عرب میں مسلسل 2 میزبانیوں کا حصہ ہوں گے۔ اس کے بعد 2034 کے ایشین گیمز سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں ہونے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر بڑے کھیل ٹورنامنٹس کے انعقاد میں مسلسل دلچسپی دکھا رہا ہے۔ یہاں کے جدید اسٹیڈیم، بہترین انفراسٹرکچر اور بڑے ایونٹس منعقد کرنے کا تجربہ دوحہ 2030 کو یادگار بنانے میں مدد کرے گا۔ اب آئندہ 4 سال میں قطر ایشیا کے کھلاڑیوں کے لیے ایک اور شاندار پلیٹ فارم تیار کرے گا۔


قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی کوشش آئندہ ایشین گیمز میں تمغوں کی سنچری لگانے پر ہوگی۔ 2023 میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور 100 سے زیادہ تمغے جیتے تھے۔ ان میں 28 طلائی تمغے بھی شامل تھے۔ تاہم اس بار ہندوستان کی جھولی میں صرف 85 تمغے آئے۔ ان میں 21 طلائی تمغے تھے۔ سب سے مایوس کن بات یہ رہی کہ 2023 میں ہندوستان نے جن 28 مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا، اس بار ان میں سے 20 مقابلوں میں طلائی تمغہ نہیں جیت سکا۔ اب ہندوستان کی کوشش اپنے کھوئے ہوئے طلائی تمغے دوبارہ حاصل کرنے کی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔