دیگر ممالک

جولائی میں یوکرین کے 437 شہری ہلاک اور 2610 ہوئے زخمی، مہلوکین میں 17 بچے بھی شامل

یوکرینی صدر زیلنسکی نے شہریوں کی ہلاکتوں کے لیے براہ راست روس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے شہروں پر میزائل، ڈرون اور بموں کے حملوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

روس- یوکرین، تصویر آئی اے این ایس
روس- یوکرین، تصویر آئی اے این ایس 

یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کی جانکاری سامنے رکھی ہے۔ ان کے مطابق جولائی میں ہونے والے روسی حملوں میں یوکرین میں 437 شہری ہلاک اور 2,610 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2022 کے بعد یہ ایک ماہ میں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ’’جولائی میں 17 بچے ہلاک ہوئے، جبکہ 166 دیگر زخمی ہوئے۔ اپریل 2022 کے بعد کسی ایک ماہ میں بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو ان اعداد و شمار پر توجہ دینی چاہیے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے شہریوں کی ہلاکتوں کے لیے براہ راست روس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے شہروں پر میزائل، ڈرون اور بموں کے حملوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جولائی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے کیے گئے حملوں میں مجموعی شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کے 38 فیصد واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے اسے شہری آبادی کے خلاف ایک منظم طریقۂ کار کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے حملوں کی دستاویز بندی اور تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے حملوں کے ذمہ دار ہر کمانڈر اور افسر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے خلاف ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ اس دوران انہوں نے بین الاقوامی برادری سے صرف تشویش ظاہر کرنے کے بجائے ٹھوس اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ زیلنسکی نے کہا کہ ’’روس پر مؤثر پابندیاں عائد کرنے، یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے اور ماسکو پر ایسا دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، جس سے اس کی اسٹریٹجک سوچ تبدیل ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جوابدہی ایسی ہونی چاہیے جس سے روس بچ نہ سکے۔

زیلنسکی نے موجودہ حالات پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید یوکرینی شہریوں کی ہلاکت سے روس کو نہ تو میدان جنگ میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے میں مدد ملے گی اور نہ ہی مذاکرات کی میز پر اس کا موقف مضبوط ہوگا۔ انھوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس طرح حملے ہوتے رہنے سے صرف شہریوں کی ہلاکت ہوگی، جو ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ روس کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔