
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ ایپسٹین فائلز کے معاملے میں لیپا پوتی کی کوشش کر رہی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ عوام کو اس معاملے سے متعلق تمام مواد دیکھنے کا حق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دستاویزات جاری کرنے کا عمل سست کیا جا رہا ہے ۔ مکمل شفافیت برتی جانی چاہیے۔
Published: undefined
وائٹ ہاؤس نے کلنٹن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے غیر معمولی شفافیت دکھائی ہے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کئے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں امریکی محکمۂ انصاف نے 'ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ' منظور ہونے کے بعد لاکھوں نئے دستاویزات جاری کیں۔ تاہم نائب اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تقریباً 30 لاکھ اضافی صفحات حساس طبی ریکارڈ، بچوں کے استحصال سے متعلق تفصیلات اور جاری تحقیقات سے جڑی معلومات کی وجہ سے روکے گئے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مرحوم سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی فائلوں کے عام ہونے کے بعد امریکہ میں ڈیموکریٹس اور برسرِ اقتدار ریپبلکن پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان فائلوں میں دونوں جماعتوں کی کئی بااثر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم کسی فائل میں نام کا ذکر ہونا بذاتِ خود کسی غلط کام کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔
Published: undefined
کینٹکی کے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے محکمۂ انصاف سے ایپسٹین اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سابق استغاثہ فیصلوں سے متعلق اندرونی یادداشتیں جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined