دیگر ممالک

پیراگوئے کے سابق صدر پینا کو ڈیجیٹل بینک کے دیوالیہ ہونے کے الزام میں حراست کا حکم

ایک عدالت نے ڈیجیٹل بینک یونو کے دیوالیہ ہونے کے معاملے میں تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں ایک فوجی اڈے پر رکھا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>سینٹیاگو پینا، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@SantiPenap</p></div>

سینٹیاگو پینا، تصویر ’ایکس‘ @SantiPenap

 

جنوبی امریکی ملک پیراگوئے کے سابق صدر سانٹیاگو پینا کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ایک عدالت نے ڈیجیٹل بینک یونو کے دیوالیہ ہونے کے معاملے میں تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں ایک فوجی اڈے پر رکھا جائے گا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور بینک کو فائدہ پہنچایا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جج ہمبرٹو اوتازو نے ہفتے کے روز یہ حکم جاری کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پینا کو ملک میں رکھنا ضروری ہے۔

پینا کو جمعہ کے روز صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے اگلے ہی دن عدالت نے انہیں حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔ پینا کے وکیل ریکارڈو پریڈا نے کہا کہ ان کے موکل نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ خارج ہو جائے گا۔ پینا نے بھی کسی طرح کی بے ضابطگی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ پینا نے صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے سرکاری محکموں اور اداروں پر دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے ان اداروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی رقم یونو بینک میں جمع رکھیں۔ اس سے بینک کو فائدہ پہنچا۔ پینا کے اس بینک کے ساتھ مالی تعلقات بھی تھے۔ اسی لیے ان پر ذاتی فائدے کے لیے سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام ہے۔ پینا مارچ 2025 تک یونو کی اصل کمپنی میں حصہ دار تھے۔ اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں ہر معاملے میں 10 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس معاملے میں پیراگوئے کے سابق مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالو پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان پر سرکاری اعتماد کو ٹھیس پہنچانے، دستاویزات میں غلط معلومات درج کرنے اور ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے انہیں بھی حراست میں لینے کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ عدالت نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔ کاروالو نے اسی ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ 2023 تک یونو بینک کے سربراہ بھی رہے تھے۔

پینا کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نائب صدر پیڈرو الیانا نے جمعہ کے روز صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ وہ اگست 2028 تک اپنی مدت کار پوری کریں گے۔ بینک کے دیوالیہ ہونے سے تقریباً 12 لاکھ کھاتہ داروں کی رقم پھنس گئی تھی۔ پیراگوئے کے مرکزی بینک کے مطابق اب تک سرکاری جمع شدہ رقم کی ضمانت کی اسکیم کے تحت لوگوں کو 16 کروڑ ڈالر دیے جا چکے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر راجدھانی اسونسیون میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔