بینکنگ بحران میں پھنسے پیراگوئے کے صدر نے دیا استعفیٰ، 30 لاکھ لوگوں کو مشکلات کا سامنا!

بینکنگ بحران کی وجہ سے عوام میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جمعرات کو ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو گئے اور ’ہمارے پیسے واپس کرو‘ کے نعرے لگائے۔

<div class="paragraphs"><p>سینٹیاگو پینا، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@SantiPenap</p></div>
i

جنوبی امریکی ملک پیراگوئے کے صدر سینٹیاگو پینا نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ملک میں بینکنگ بحران کے بعد تقریباً 30 لاکھ لوگوں کی جمع شدہ رقم پھنس گئی تھی۔ اس سے ناراض ہزاروں افراد سڑکوں پر اتر آئے اور صدر کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ پھنسے ہوئے پیسوں میں بزرگوں اور پنشن حاصل کرنے والے افراد کی رقم بھی شامل ہے۔ پیراگوئے کے سنٹرل بینک نے 2 روز قبل یواینو بینک کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بینک کو پیسوں کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ سنٹرل بینک نے کہا کہ لوگوں کی جمع پونجی کو بچانے اور ملک کے بینکنگ نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

بینکنگ بحران کی وجہ سے عوام میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جمعرات کو ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع ہو گئے اور ’ہمارے پیسے واپس کرو‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے پہلے ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور پانی کی بوچھار کی۔


دراصل بحران والی حالت نے کئی خاندانوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اس معاملہ میں 21 سالہ طالب علم آندریس مالڈوناڈو نے کہا کہ ان کے خاندان کے پاس اب پیسے نہیں بچے ہیں۔ انہوں نے صدر کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل بھیجا جانا چاہیے۔ 26 سالہ نادیہ گونزالیز نے بتایا کہ بینک نے انہیں اپنا پہلا مکان خریدنے کے لیے قرض منظور کر لیا تھا، لیکن رقم جاری نہیں کی۔ اب ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ منگل اور بدھ کو بینک کی شاخوں کے باہر رقم نکالنے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔

اس درمیان اراکین پارلیمنٹ نے جمعرات کو متفقہ طور پر صدر پینا کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر بینک سے متعلق معاملات میں غلط فیصلے کرنے اور اپنے ذاتی مفادات کو فائدہ پہنچانے کے الزامات ہیں۔ پینا کے پاس اس گروپ کے شیئرز تھے، جس کا یواینو بینک پر کنٹرول تھا۔ حالانکہ انہوں نے گزشتہ سال اپنے شیئرز فروخت کر دیے تھے۔ بحران بڑھنے پر صدر پینا نے سنٹرل بینک کے سربراہ کارلوس کاروالہو سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ کاروالہو نے استعفیٰ دے دیا۔ پینا نے 5 دن کے اندر لوگوں کی رقم واپس کرنے کا وعدہ بھی کیا، لیکن اس سے لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔ خراب ہوتے حالات کو دیکھتے ہوئے صدر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کر کے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد توڑنا ان کا ارادہ نہیں تھا۔ ان کی پہلی ترجیح ان لوگوں کو راحت پہنچانا ہے، جنہوں نے بینک میں اپنی بچت جمع کر رکھی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو پارلیمنٹ میں صدر کے استعفیٰ پر فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا گیا، لیکن مطلوبہ تعداد میں اراکین پارلیمنٹ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ بعد میں جمعہ کی صبح مواخذے کی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بہرحال، صدر کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر پیڈرو الیانا صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔