دیگر ممالک

وینزویلا میں زلزلے کے باعث 2 فیٹ کھسکی زمین، اسرو-ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے ہوا انکشاف

سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ شدید زلزلے کے باعث کئی مقامات پر زمین تقریباً 60 سینٹی میٹر یعنی 2 فیٹ تک کھسک گئی، جس کی وجہ سے راجدھانی کاراکاس اور لاگوئرا میں شدید تباہی مچی۔

<div class="paragraphs"><p>شدید زلزلے کے بعد وینزویلا میں تباہی کا منظر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

شدید زلزلے کے بعد وینزویلا میں تباہی کا منظر، تصویر/آئی اے این ایس

 

وینزویلا میں گزشتہ ماہ آئے 2 طاقتور زلزلوں کے حوالے سے اسرو اور ناسا کے مشترکہ مشن ’نسار‘ سیٹلائٹ نے اہم انکشاف کیا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس شدید زلزلے کے باعث کئی مقامات پر زمین تقریباً 60 سینٹی میٹر یعنی 2 فیٹ تک کھسک گئی، جس کی وجہ سے راجدھانی کاراکاس اور لاگوئرا میں شدید تباہی مچی۔ سائنسدانوں نے 24 جون کو آئے زلزلے سے قبل اور بعد میں نسار سیٹلائٹ سے لی گئی زمین کی تصاویر کا مطالعہ کیا۔ اس کے لیے 13 اور 18 جون کی تصاویر کا موازنہ 25 اور 30 جون کو لیے گئے ڈیٹا سے کیا گیا تاکہ زلزلے کے بعد زمین کی سطح میں ہوئی تبدیلیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

واضح رہے کہ 24 جون کو شمالی وینزویلا میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کے 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا ایک اور طاقتور زلزلہ آیا۔ ان زلزلوں میں 5000 سے زائد افراد کی موت اور تقریباً 16700 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ کاراکاس اور لاگوئرا کے علاوہ تروجیلو، یاراکوئے، کارابوبو، اراگوا اور او مرانڈا ریاستیں بھی متاثر ہوئی تھیں۔

سائنسدانوں نے زمین کی سطح میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے کے لیے ’انٹرفیرومیٹرک سنتھیٹک اپرچر ریڈار‘ (انسار) تکنیک کا استعمال کیا۔ اس میں سیٹلائٹ کے بار بار گزرنے کے دوران جمع کیے گئے دیٹا کا موازنہ کر کے سیٹلائٹ اور زمین کے درمیانی فاصلے میں آنے والی تبدیلیوں کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار تھا جب کسی بڑے زلزلے کے باعث زمین کی سطح میں ہوئی تبدیلی کو میپ کرنے کے لیے نسار کے ’ارجنٹ رسپانس سسٹم‘ کا استعمال کیا گیا۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ماہر ارض طبیعیات ایرک فیلڈنگ کے مطابق زلزلے کی فالٹ لائن سمندر سے ہوتی ہوئی مشرق کی جانب بڑھی اور کاراکاس کے شمال میں واقع انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دوبارہ ساحل پر آئی۔ اس حصے کے بالکل جنوب میں زمین کا کھسکاؤ سب سے زیادہ تقریباً 60 سینٹی میٹر (2 فیٹ) رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کاراکاس اور لاگوئرا میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے کو ملی۔ ایرک کے مطابق ’انسار‘ تکنیک سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں کافی مدد ملی کہ زلزلے کے دوران حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ’نسار‘ سیٹلائٹ زمین کی سطح کو بالکل اوپر سے نہیں بلکہ تقریباً 40 ڈگری کے زاویے دے دیکھتا ہے۔ اس سے وہ زمین کی افقی اور عمودی دونوں طرح کی نقل و حرکت کو ریکارڈ کر سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔