’پشکر سنگھ دھامی حکومت نے اتراکھنڈ کو 122 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا‘، کانگریس کا سنگین الزام

کانگریس لیڈر کرن مہارا نے کہا کہ عام آدمی کو قرض لینے کے لیے اپنی جائیداد گروی رکھنی پڑتی ہے اور قرض ادا نہ کرنے پر جائیداد کو ضبط کر رقم کی وصولی ہوتی ہے، لیکن اتراکھنڈ میں الگ ہی کھیل چل رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس لیڈر کرن مہارا، ویڈیو گریب</p></div>
i

اتراکھنڈ کانگریس نے ریاست کی بی جے پی حکومت اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی پر سرکاری زمینوں کے معاملے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس لیڈر اور اتراکھنڈ میں چارج شیٹ کمیٹی کے سربراہ کرن مہارا نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ ریاست میں ’انویسٹمنٹ میٹ‘ کے نام پر ڈرامہ کیا گیا اور اس کی آڑ میں سرکاری زمینیں باہر کے لوگوں کو انتہائی کم قیمت پر دینے کی بنیاد تیار کی گئی۔

کرن مہارا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سڈکل سے متصل چھربا علاقہ میں 325 بیگھا زمین حاصل کی گئی تھی، جس کا مقصد چھوٹے صنعت کاروں اور کاروباریوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے زمین فراہم کرنا تھا، لیکن چھوٹے صنعت کاروں کو وہاں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے اس زمین کو اتر پردیش کے ایک تعلیمی ادارے کو دینے کی کوشش کی گئی، لیکن جب یہ معاملہ طے نہیں ہو سکا تو بعد میں اسے پیٹرولیم یونیورسٹی، یو پی ای ایس بدھولی کے حوالے کر دیا گیا۔


کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس وقت اس زمین کی بازار قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے فی بیگھا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے صرف 37.65 لاکھ روپے فی بیگھا کے حساب سے پیٹرولیم یونیورسٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو یہ زمین فروخت ہی کرنی تھی تو اس کے لیے کھلی نیلامی کرائی جانی چاہیے تھی اور زمین ان لوگوں کو دی جانی چاہیے تھی جو وہاں ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ کرن مہارا کے مطابق اس معاملے میں سب سے بڑا کھیل یہ ہوا کہ جس دن 325 بیگھا زمین 122.36 کروڑ روپے میں یونیورسٹی کو دی گئی، اس کے صرف 3 ماہ بعد ہی سرکل ریٹ میں ترمیم کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نئے سرکل ریٹ کے مطابق اس زمین کی قیمت 75.20 لاکھ روپے فی بیگھا ہو گئی اور مجموعی طور پر اس زمین کی مالیت تقریباً 244 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ اگر سرکل ریٹ کے مطابق معاملے کا جائزہ لیا جائے تو پشکر سنگھ دھامی کی حکومت نے ریاست کو تقریباً 122 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ کانگریس نے سوال کیا کہ سرکاری زمین کی قیمت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا اور سرکل ریٹ میں ترمیم سے پہلے زمین کو کم قیمت پر دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ پریس کانفرنس میں کرن مہارا نے سڈکل میں اسپتال کے لیے زمین مختص کرنے کے ایک دوسرے معاملے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ سڈکل میں 23,137 مربع میٹر زمین اسپتال کے لیے دینے کی بات ہوئی تھی اور اس کے لیے 13 دسمبر 2024 کو ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق کچھ عرصے بعد وزیراعلیٰ دھامی نے محکمہ صحت کو اطلاع دیے بغیر فروری 2025 میں اس بولی کو منسوخ کر دیا اور بعد میں یہ کام ’سکہ ڈیولپرس‘ نامی کمپنی کو دینے کا معاملہ سامنے آیا۔ کرن مہارا نے اس کمپنی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس کمپنی پر 277 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، اس کے 31 فلیٹ سیل کیے گئے تھے اور کمپنی پر آج بھی 208 کروڑ روپے کی واجب الادا رقم باقی ہے۔ اس کمپنی کے خلاف کئی ریاستوں میں بدعنوانی کے مقدمات بھی درج ہیں۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ اس کے باوجود دھامی حکومت نے آر سی سی نامی کمپنی اور اس سے وابستہ بنبائٹ ایونیو پرائیویٹ لمیٹڈ کو یہ کام دینے کی تجویز رکھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی کے پاس ہاؤسنگ کے شعبے کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور بولی کے وقت کمپنی نے اپنے مالیاتی دستاویزات بھی جمع نہیں کرائے تھے۔


کرن مہارا نے کہا کہ کسی بھی بولی کے عمل میں متعلقہ کمپنی کے تکنیکی اور مالیاتی کاغذات کی جانچ ضروری ہوتی ہے، لیکن ان کے مطابق اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ضروری دستاویزات اور طے شدہ طریقہ کار مکمل کیے بغیر کمپنی کو کام کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پورے معاملے میں حکومت کو تقریباً 250 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملے میں مکمل شفافیت اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کرن مہارا نے سرکاری زمینوں کی لیز اور سب-لیز کے معاملے پر بھی دھامی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو قرض لینے کے لیے اپنی جائیداد گروی رکھنی پڑتی ہے اور اگر کوئی شخص قرض ادا نہ کر سکے تو حکومت گروی رکھی گئی جائیداد کو ضبط کر کے رقم کی وصولی کرتی ہے، لیکن اتراکھنڈ میں زمینوں کے معاملے میں بالکل الگ کھیل چل رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ایکٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ لیز پر لی گئی زمین کو دوبارہ لیز پر نہیں دیا جا سکتا، لیکن اتراکھنڈ میں لیز کی زمین کو سب-لیز پر دینے کا سلسلہ جاری ہے اور لیز کی تجدید بھی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بولی کی شرائط اس طرح رکھی گئی ہیں کہ بولی حاصل کرنے والے کو بولی کے دن سے 30 دن کے اندر صرف 25 فیصد رقم جمع کرانی ہوتی ہے۔


کرن مہارا نے الزام لگایا کہ ایسی صورت حال میں بولی لینے والا زمین کے ایک حصے کو زیادہ قیمت پر سب-لیز دے کر رقم کا انتظام کر سکتا ہے، جبکہ باقی 75 فیصد رقم جمع کرانے کے لیے اسے کافی وقت مل جاتا ہے۔ اس طرح سرکاری زمینوں کے استعمال اور ان کے فائدے سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ آج ریاست کے مختلف حصوں میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل جگہوں کو بھی فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور یہ سب پشکر سنگھ دھامی کی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔