اتر پردیش میں بی جے پی خود اعتمادی سے محروم ہو گئی!... کرشن پرتاپ سنگھ
بی جے پی کو سماجی و معاشی ایشوز کو درکنار کرنے اور جوابدہی سے بچنے کا طریقہ خوب پسند آتا رہا ہے۔ لیکن لگتا نہیں کہ اس کی کاٹھ کی ہانڈی پھر چڑھ سکے گی۔

گزشتہ 4-3 دہائیوں سے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کا ’ذاتوں اور مذہبوں کی جنگ‘ میں تبدیل ہو جانا ریاستی عوام کی تقدیر سی بنی ہوئی ہے۔ اس کے لیے بیشتر کوششیں برسراقتدار فریق کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں تاکہ اپنی حکومت بچائے رکھی جا سکے، چاہے اس کے لیے خود کو جتنا بھی گرانا پڑے۔ البتہ کبھی کبھی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس کی سازش کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں اور اس کے جال میں پھنس کر اس جیسے ہی کرتب کرنے لگ جاتی ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسی کوششیں کچھ چوری چھپے کی جاتی ہیں، کچھ کھلم کھلا اور بے شرمی کے ساتھ۔ ایسے میں ووٹرس کے لیے یہ طے کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ انہیں کھلم کھلا ایسی جنگوں میں جھونکنے والے زیادہ خطرناک ہیں یا وہ جو جھک جھک کر اونٹ چراتے اور ایک ساتھ دھان کوٹنے اور بغل ڈھانپنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی مذہبوں کی اعلیٰ اقدار اور اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ ان کی سب سے زیادہ دلچسپی کسی بھی قیمت پر فتح میں ہوتی ہے، خواہ اس کے لیے طرح طرح کی فرقہ پرستیوں، تنگ نظریوں اور انتہاپسندیوں کو مذہبوں کا مترادف بنا کر لوگوں کو بھڑکانا اور آپس میں لڑانا پڑے۔
راشٹر کوی رام دھاری سنگھ دنکر نے کبھی اسی رجحان کے لوگوں کو ہدف بنا کر لکھا تھا: ’’سادھن کو بھول سدھی پر جب ٹکٹکی ہماری لگتی ہے/ پھر وجے چھوڑ بھاؤنا اور کوئی نہ ہردے میں جگتی ہے/ تب جو بھی آتے وگھن روپ، ہوں دھرم، شیل یا سداچار/ ایک ہی سدرش ہم کرتے ہیں سب کے سر پر پاد پرہار/ اتنی بھی پیڑا ہمیں نہیں ہوتی ہے انہیں کچلنے میں/ جتنی ہوتی ہے روز کنکڑوں کے اوپر ہو چلنے میں۔‘‘ لیکن کیا اس بار کے اسمبلی انتخاب میں بھی ویسی ہی جنگ ہوگی؟ اور اگر ہوئی تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
بی جے پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ساڑھے نو سالوں میں مذہبی اور فرقہ وارانہ امتیازات کو انتہا تک پہنچا دینے والی بدانتظامی کے ذریعے ریاست کو جن حالات تک پہنچا دیا ہے، ان کے سبب وہ جس طرح کی اقتدار مخالف لہر، نئی نسل کے غصے اور ووٹرس کی جانب سے ممکنہ بے دخلی کے فرمان کے خوف کا سامنا کر رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ وہ ویسی جنگ کی تکرار نہیں چاہے گی۔
لیکن اس بار صورت حال میں ایک بڑا فرق ہے۔ وہ یہ کہ اندرونی اور بیرونی کئی وجوہات سے بی جے پی کا اعتماد اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ہاں، یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ پرستی کی پرورش کے ان کے پرانے راگ کی حقیقت کھل چکی ہے اور انہیں اس کے آگے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
رام پور میں جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنے کی کارروائی مراد آباد ڈویژن کے کمشنر کورٹ کی جانب سے عبوری روک لگا دیے جانے کے سبب ’مکمل‘ نہیں ہو پائی تو بجرنگ دل کے ایک لیڈر کی شکایت پر سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میں واقع 150 سال پرانی مسجد کو منہدم کر دینے سے حکومت اور بی جے پی کا منصوبہ بالکل واضح ہو گیا ہے کہ جس اکثریتی فرقہ پرستی کی وہ پرورش کرتے آئے ہیں، اس کے مزید جنوں کو ان کی بوتلوں سے باہر نکالنا چاہیں گے۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، انہیں اس کی پروا نہیں۔
کئی مبصرین کا اندازہ ہے کہ ان جِنوں کو بوتل سے باہر نکالنے کے بعد وہ اسمبلی انتخابات وقت سے پہلے کرانے کی تمنا ظاہر کر سکتے ہیں، لیکن اپنے جنوں کے کیے دھرے سے مطمئن نہ ہونے کے سبب وہ اس راستے پر جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے، جسے اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستوں میں ’ریوڑیاں بانٹنا‘ کہہ کر اس کی تنقید کرتے رہے ہیں۔ تب، جس طرح بے معنی دلیلوں کے ذریعے وہ نفرتوں کی اپنی وکالت کو جائز ٹھہراتے رہتے ہیں، ویسے ہی اپنی ریوڑیوں کو بھی جائز ٹھہرائیں گے۔ سماجی و اقتصادی مسائل کو نظرانداز کرنے اور جواب دہی سے بچنے کا ’روایتی جنگ‘ کا طریقہ انہیں خوب پسند آتا رہا ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ اس بار ایسا کہنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے کہ ان کی لکڑی کی ہانڈی اب نہیں چڑھنے والی۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کی جانب سے 1991 میں ریاست میں پہلی مرتبہ حکومت بنانے سے پہلے ایک وقت ایسا بھی تھا، جب اقتدار کی سیاست اتنی بے وقوفانہ نہیں ہوئی تھی اور سمجھتی تھی کہ اقلیتی اور اکثریتی دونوں فرقہ پرستیاں نقصان دہ ہوتی ہیں، لیکن اکثریتی فرقہ پرستی کے نقصانات نسبتاً بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے توقع کی جاتی تھی کہ جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے، اسے ہر حال میں اکثریتی فرقہ پرستی کو قابو میں رکھنے کی کوششیں ضرور کرنی چاہئیں۔ لیکن یوگی حکومت ڈنکے کی چوٹ پر حکومتی نظام کا غلط استعمال کر کے اکثریتی فرقہ پرستی کی پرورش کرتی رہتی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ایودھیا اور اس کے آس پاس کی تمام لوک سبھا نشستیں ہار جانے کا اس کا غم، تب بھی ختم نہیں ہو پایا جب ریاستی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں جیت حاصل ہوئی۔ رام مندر میں چندہ کی چوری اور لکھنؤ میں بی جے پی کے نئے نویلے صدر نتن نبین کے استقبال میں ہنومان کے روپ کے غلط استعمال کے معاملات میں پھنسنے نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ ایسے میں وہ ایودھیا کے معاملے سے زیادہ امید نہیں کر پا رہی اور متھرا اور کاشی پر زیادہ زور دے رہی ہے۔
اسی لیے یوگی نے شری کرشن جنم اشٹمی پر متھرا جا کر کچھ ایسے انداز میں اعلان کیا کہ ’’سناتن دھرم کو کوئی مٹا نہیں سکتا‘‘۔ انہوں نے اشاروں میں اپوزیشن پارٹیوں کو حملہ آوروں سے بھی جوڑا اور کہا کہ جن کا عقیدہ حملہ آوروں میں رہا ہے، وہ کبھی سناتن ثقافت کا احترام نہیں کر سکتے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، یوگی اکثریتی ووٹرس کو اپنی طرف کرنے کے لیے انہیں ایسے مزید خوف کے حوالے کرنا چاہیں گے۔ لیکن یہ ان کی مضبوطی کی وجہ سے نہیں بلکہ کمزور اعتماد کے سبب ہوگا۔ لگتا ہے کہ یوگی بھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے یوگی نے ’تو نہیں اور سہی‘ کی طرز پر ’پلان بی‘ بھی بنا رکھا ہے، یعنی ریوڑیاں بانٹنے کا پلان۔
چالاکی یہ ہے کہ ریوڑیوں کے اعلان سے پہلے اپنے حامی میڈیا کو ان کے دھواں دھار پروپیگنڈے کے کام پر لگا دیا ہے۔ یہ میڈیا خوب پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ یوگی حکومت اقتصادی طور پر کمزور اور ضرورت مند خواتین کو بااختیار بنانے (ان کا ووٹ خریدنے) کے لیے انہیں 50,000 روپے کی نقد سرکاری امداد کی اسکیم لانے والی ہے۔ حال ہی میں 60 سال سے زیادہ عمر کی، یعنی بزرگ خاتون شہریوں کے لیے ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسوں میں مفت سفر کی سہولت بھی شروع کی گئی ہے۔ سرکاری منصوبوں کے نفاذ میں اعزازیہ پر کام کرنے والے کئی گروپوں کے اعزازیے میں اضافہ بھی اس کے زیر غور ہے۔ ریاست میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ لوگوں کو ’لوک کوی‘ رفیق سادانی کی یہ سطریں یاد آ رہی ہیں: جب نگيچے چناؤ آوت ہے، بھات مانگو پلاو آوت ہے۔
جہاں تک ’ذات کی جنگ‘ کی بات ہے، بی جے پی اس سے گریز کا دعویٰ کرتی رہی ہے اور اس کا الزام اپنی مخالف پارٹیوں پر عائد کرتی رہی ہے۔ لیکن اسے جیسے ہی موقع ملتا ہے، وہ ذاتوں کے کھیل میں ان کے کان کاٹنے لگ جاتی ہے۔ کئی مبصرین اس کے اس کھیل کو بھی ہندوتوا کے کارڈ سے مایوس ہونے کے بعد اس کے ’ہارے کو ہری نام‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب سے پہلے تو اس نے اس کھیل میں حد ہی پار کر دی تھی۔ تب، 7 جولائی 2021 کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں توسیع کی تو زور شور سے پروپیگنڈا کیا جانے لگا تھا کہ انہوں نے اتر پردیش سے 3 پسماندہ، 3 دلت اور 1 برہمن وزیر بنائے ہیں۔ پھر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی کابینہ میں توسیع کی، تب بھی وزیروں کی ذاتیں ہی پروپیگنڈے میں نمایاں کی گئیں۔ لیکن اس بار اس حکمت عملی میں ایک پہلو یہ بھی شامل ہو گیا ہے کہ پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے کے سبب پارٹی کے لیے اہم نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے اے بی پی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعلیٰ بننے کی اپنی خواہش کھل کر قبول کر لی، جس سے یوگی حیران رہ گئے ہیں۔ اس لیے کہ موریہ کو بی جے پی میں یوگی کا سب سے طاقتور حریف سمجھا جاتا رہا ہے۔
مذکورہ انٹرویو میں موریہ نے کہا ہے کہ ’’ہو سکتا ہے اگلی بار آپ مجھے وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھیں یا کسی اور شکل میں دیکھیں... آخری فیصلہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اور انتخابات کے بعد قانون ساز پارٹی ہی کرے گی۔‘‘ یوگی اور ان کے حامیوں کے نزدیک موریہ کے اس بیان کی کئی تشریحات ہیں اور بدقسمتی سے سبھی ان کی تشویش بڑھانے اور اعتماد کم کرنے والی ہیں۔
