آکاش آنند کو بار بار حاشیہ پر کیوں دھکیلا جا رہا!... منی بندوپادھیائے
اگر آکاش آنند کو بار بار پیچھے دھکیلنا بی ایس پی سپریمو مایاوتی کی ضد ہے، تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس سے بی ایس پی کو حاصل کیا ہوگا؟

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے 10 ستمبر کو اپنے بھتیجے آکاش آنند سے ’مکمل طور پر‘ رشتہ توڑ لیا۔ ’ایکس‘ پر اس کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ایک طویل اور ناراضگی بھری پوسٹ میں بتایا کہ آکاش کی جانب سے ان کی حالیہ پوسٹ کو ری-پوسٹ نہ کرنا کس طرح ان کی بے وفائی کا ’پختہ ثبوت‘ بن گیا۔ ظاہر ہے، یہ خبر حیرت انگیز تھی اور لوگ یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ مایاوتی واقعی ایسا کر رہی ہیں! پوسٹ میں آنند کے سسر اشوک سدھارتھ سے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا تھا، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اشوک نے ’ایکس‘ پر کہا کہ مایاوتی کا حکم ان کے لیے سب سے مقدم ہے، لیکن انہوں نے اس الزام کی تردید بھی کی کہ ان کے داماد نے ان کے اثر میں آ کر کوئی کام کیا تھا۔
مایاوتی اپنے دبنگ اور سخت رویے کے لیے مشہور ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے بھتیجے اور ان کے سسر کو اس طرح سرعام بے عزت کرنے سے 2027 کے انتخابات میں بی ایس پی کو کیا حاصل ہوگا؟ ان کے عجیب رویے اور بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کے سبب ان کا اپنا بنیادی ووٹ بینک، یعنی دلت طبقہ کا بھی ان پر سے بھروسہ کم ہو رہا ہے۔ آکاش آنند کو بے عزت کرنے کا تازہ سلسلہ اس ماہ کے ابتدا میں شروع ہوا، جب انہیں پارٹی کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ اعلان بھی مایاوتی نے سوشل میڈیا پر کیا اور کہا کہ ’’وہ ابھی اتنے پختہ نہیں ہوئے ہیں‘‘۔ جلدی میں ’ایکس‘ پر آکاش کا بایو بھی پہلے ’چیف نیشنل کوآرڈینیٹر‘ سے بدل کر ’پارٹی ورکر‘ اور پھر ’پارٹی سپورٹر بی ایس پی‘ ہو گیا۔ 15 اگست 2026 کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ’ایکس‘ پر کوئی پوسٹ بھی نہیں کی ہے۔
آکاش کے چھوٹے بھائی ایشان آنند کو پارٹی کا نیا ’سیکٹر اِن چارج‘ مقرر کیا گیا ہے (بی ایس پی کے 3 سیکٹر ہیں، جن میں سے اتر پردیش اور اتراکھنڈ سیکٹر کو مایاوتی خود براہ راست دیکھتی ہیں)۔ آکاش اور ایشان دونوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ جانے سے پہلے نوئیڈا میں اسکولی تعلیم حاصل کی تھی۔ سب مانتے ہیں کہ آکاش ایک اچھے مقرر ہیں، ان کی ریلیوں میں خاصی بھیڑ جمع ہوتی رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ ان کے اچانک حاشیہ پر چلے جانے کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بوا مایاوتی کو ان کی تقریروں کی تلخی پسند نہیں آئی۔ آکاش لیڈران کا نام لے کر ان پر حملے کر رہے تھے، بعض پر ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور آر ایس ایس کی بھی مسلسل تنقید کی۔ خبر گرم ہے کہ بی جے پی اور مرکزی حکومت پر ان کے سخت حملوں نے باقی کسر بھی پوری کر دی۔ خبروں کے مطابق دوسری وجہ یہ رہی کہ بی جے پی کی قیادت نہیں چاہتی تھی کہ اتر پردیش میں بی ایس پی سے کوئی نوجوان اور زیادہ مقبول دلت لیڈر ابھرے، اس لیے مایاوتی پر دباؤ بنایا گیا تھا۔
دلت سیاست پر طویل عرصہ سے نظر رکھنے والے کمل جینت کہتے ہیں کہ ’’انہیں پارٹی کے مستقبل کے چہرے کے طور پر پیش کیا گیا اور ایک وقت تو انہیں باضابطہ طور پر مایاوتی کا جانشیں بھی قرار دے دیا گیا تھا۔ نوجوان حامیوں کے درمیان ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور تنظیم کے اندر اپنی بات منوانے کی کوششوں نے انہیں ایسا قد دیا جو عام عہدیدار سے کہیں بڑھ کر تھا۔‘‘ کمل یاد کرتے ہیں کہ کس طرح آکاش نے پارٹی کے غیر فعال عہدیداروں کی تنقید کی تھی اور تنظیم میں عہدہ سنبھالنے والوں سے زیادہ جوابدہی کی توقع کی تھی۔ ان کا ایسا کرنا پارٹی کے ان قائم شدہ لیڈران کو ناراض کرنے کا سبب بن گیا، جو برسوں تک مایاوتی کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔
10 دسمبر 2023 کو آکاش کو مایاوتی کا سیاسی جانشین قرار دیتے ہوئے قومی کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔ لیکن چند مہینوں کے اندر ہی ان سے نہ صرف تمام ذمہ داریاں چھین لی گئیں، بلکہ اپریل 2024 میں انہیں لوک سبھا انتخابی مہم سے بھی دور رکھا گیا۔ 23 جون 2024 کو انہیں دوبارہ قومی کوآرڈینیٹر بنایا گیا۔ مارچ 2025 میں اپنے سسر کے اثر میں آ کر تکبر اور ضرورت سے زیادہ عزائم دکھانے کا الزام لگا کر انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا، لیکن 13 اپریل کو انہیں دوبارہ معاف کر دیا گیا۔ 18 مئی کو ایک بار پھر قومی کوآرڈینیٹر بنایا گیا اور 29 اگست کو ان کے لیے ’چیف نیشنل کوآرڈینیٹر‘ کا نیا عہدہ تخلیق کر کے اس کی کمان سونپ دی گئی۔ آخر اس اتار چڑھاؤ بھرے سفر کا سبب کیا تھا؟
مایاوتی نے خود کہا ہے کہ ان کے لیے اپنے خاندان سے زیادہ ضروری ان کا سماج ہے۔ انہوں نے کانشی رام کے اس فیصلے کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے اپنی زندگی بہوجن تحریک کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ اگرچہ کہتی ہیں کہ وہ خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتیں، لیکن ان کے بھائی پارٹی کے نائب صدر ہیں اور دوسرے بھتیجے نے آکاش کی جگہ لے لی ہے۔ اشوک سدھارتھ بھی راجیہ سبھا بھیجے ہی گئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اب آکاش کیا کریں گے؟ کیا وہ بی ایس پی سے الگ ہو کر اپنی راہ منتخب کریں گے؟ کسی دوسری پارٹی میں شامل ہوں گے یا سیاست چھوڑ کر خاندان کا کاروبار سنبھالیں گے؟ نگاہیں ان پر اس لیے بھی رہیں گی، کیونکہ اتر پردیش میں 2027 کے انتہائی اہم اسمبلی انتخابات اب بہت قریب ہیں۔
نیلا رنگ کچھ خاص ہے!
’سماجوادی چھاتر سبھا‘ نے اپنا رنگ بدل لیا ہے۔ اس کا نیا ڈریس کوڈ ہے: نیلی ٹی شرٹ اور نیلی جینز۔ پرانی وردی والی لال ٹوپی بھی برقرار ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ نیلا رنگ بابا صاحب امبیڈکر اور ’بہوجن سماج‘، یعنی پارٹی نہیں بلکہ عام عوام، کی علامت ہے۔ ’چھاترا سبھا‘ کے اراکین کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ناقدین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے یہ تبدیلی کیوں کی؟ ناقدین کا خیال تھا کہ سماجوادی پارٹی اس رنگ کو اپنا رہی ہے، جو طویل عرصہ سے دلتوں، مایاوتی اور بی ایس پی کی شناخت رہا ہے۔
بی جے پی کی ایک اتحادی پارٹی کے لیڈر اوم پرکاش راجبھر کہتے ہیں کہ ڈریس کوڈ بدلنے سے دلت ووٹ نہیں ملنے والے۔ ماہرین بھی یہی مانتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں اتر پردیش کے جن دلتوں نے بی ایس پی کا ساتھ چھوڑا، ان میں سے بیشتر نے بی جے پی کا ہاتھ تھاما۔ اس کا ایک تعلق تو بی جے پی کے جارحانہ ہندوتوا سے رہا، جس کے باعث دلتوں کو اس میں دوسری ذاتوں کے ہندوؤں کے ساتھ جڑنے اور اپنی سماجی حیثیت بہتر کرنے کا موقع دکھائی دیتا ہے، اور دوسری وجہ دولت کا لالچ ہے، جو بی جے پی کے پاس بے پناہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مایاوتی کو ملنے والے 12 سے 13 فیصد مضبوط ووٹوں کے بی ایس پی کے ہاتھ سے نکلنے کا امکان کم ہی ہے۔ ایسا ماننے والے کہتے ہیں کہ اگر دلت سماجوادی پارٹی سے جڑنے کا فیصلہ بھی کرتے ہیں تو انہیں ’نیلی وردی‘ سے کہیں زیادہ بڑا کشش دکھا کر راغب کرنا ہوگا۔
تاہم، پارٹی حامیوں کے درمیان رنگ کی اس تبدیلی کو زور شور سے عام کرنے کے لیے اکھلیش یادو کو پورے نمبر ملنے چاہئیں، جس میں ہاکی کے میدانوں والی مصنوعی ٹرف بھی شامل ہے! انہوں نے آگے کہا کہ مغربی ممالک میں نیلی جینز تاریخی طور پر محنت کش طبقہ سے وابستہ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ ’نیلا رنگ ناانصافی کے خلاف بغاوت کی علامت ہے‘ والا دعویٰ ’چھاتر سبھا‘ کے اراکین سمیت سب کو مطمئن نہ کر پایا ہو۔ تاہم، وہ اس بات سے ضرور متفق تھے کہ نئے انداز میں وہ زیادہ دلکش نظر آ رہے تھے۔
اور بھلا ہم اس سے اختلاف کرنے والے کون ہوتے ہیں؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
