’اقلیتی سماج کے لوگ سبھی نااتفاقیوں کو کنارہ کر ایک پلیٹ فارم پر آئیں‘، ملک کے موجودہ حالات سے فکرمند محمد ادیب کی اپیل
سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب آئین کے پرخچے نہیں اڑائے جاتے، کسی بچے پر ظلم نہیں کیا جاتا، مسجدوں کے نیچے بلڈوزر نہیں چلتا۔

ہندوستان میں فرقہ واریت اور مذہبی تشدد کے بڑھتے واقعات پر سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتی سماج سے ایک پلیٹ فارم پر آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ملک کے حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ وقت آپسی نااتفاقیوں کو کنارہ کر کے ناانصافی کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔
یہ باتیں ’انڈین مسلم فار سول رائٹس‘ (آئی ایم سی آر) کے صدر محمد ادیب نے گزشتہ دنوں میڈیا اداروں سے بات کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ جو سماج اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتا ہے، وہ ہمیشہ نقصان میں ہی رہتا ہے۔ سہارنپور مسجد پر بلڈوزر چلائے جانے سے عین قبل دیے گئے اس بیان میں وہ نہ صرف مسلمانوں و دیگر اقلیتی طبقہ سے متحد ہونے کی اپیل کر رہے ہیں، بلکہ بی جے پی و آر ایس ایس کے خلاف آواز بلند کرنے پر بھی زور دے رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران اپنی بات بے باکی کے ساتھ رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب آئین کے پرخچے نہیں اڑائے جاتے، کسی بچے پر ظلم نہیں کیا جاتا، مسجدوں کے نیچے بلڈوزر نہیں چلتا۔ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے بڑی مصیبت کا وقت آ گیا ہے۔ دلتوں اور سکھوں کے لیے بھی مصیبت کھڑی ہو چکی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم فکر مند اس لیے ہیں کیونکہ ہم اس ملک کے محافظ ہیں۔ اس وقت آئین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں، اس لیے ان سبھی کو کھڑے ہونا چاہیے جو ہندوستان میں جمہوریت برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ہندوستانی آئین میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘
محمد ادیب نے مرکز کی مودی حکومت پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو ڈاٹا ہمارے سامنے ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ 2014 کے بعد ہمارے ملک کی ترقی رکی نہیں ہے، بلکہ ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ ملک کو اگر بچانا ہے تو ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اگر ہم ابھی آگے نہیں بڑھیں گے تو پھر پریشانیاں بڑھتی جائیں گی۔ جو قوم ضرورت پڑنے پر اکٹھا نہیں ہوتی، اس کی تباہی کا ذمہ دار قائد ہی ہوتا ہے۔‘‘ مانسون اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’جب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پورے سیشن میں نہ آئے اور کہتے نظر آئیں کہ جمہوریت پر عمل کر رہے ہیں، تو پھر ان سے کیا ہی امید کی جائے۔ ایک سپاہی مسجد کے اندر گھس کر نماز رکوا دیتا ہے، اس پر بھی کوئی بولنے والا نہیں۔ ہمیں اگر ملک کو بچانا ہے تو پہلے خود کو مضبوط کرنا ہوگا اور سبھی سیکولر عوام کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جو لوگ بھی آئیڈیا آف انڈیا میں یقین رکھتے ہیں، انھیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آج جو نوجوان بچے سڑکوں پر مظاہرہ کرتے نظر آ رہے ہیں، یہ وہی بچے ہیں جنھیں آئیڈیا آف انڈیا میں پورا بھروسہ ہے۔‘‘
بچوں کو جبراً ’وندے ماترم‘ گانے پر مجبور کیے جانے کی بھی محمد ادیب نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے حکمراں طبقہ سے کہا کہ ’’تم کہہ رہے ہو وندے ماترم گاؤ، حالانکہ بچے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اسکول جانا ہے، اسکول ٹھیک کر دو۔ ان کی بات سننے کی جگہ تم انھیں وطن کا غدار کہتے ہو۔‘‘ میڈیا کے ذریعہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے امریکہ دورہ سے متعلق ایک سوال پر وہ کہتے ہیں کہ ’’بھاگوت جب امریکہ گئے تو وہاں کے لوگوں نے آر ایس ایس کی تاریخ پڑھنی شروع کی۔ جو دنیا گاندھی کو پسند کرتی ہے، انھیں پتہ چل گیا کہ جو وفد آیا ہے، وہ گاندھی کے قاتل سے جڑا آرگنائزیشن ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کی حقیقت بڑے بڑے لوگ سامنے نہیں لا سکے، لیکن بھاگوت کے دورہ نے یہ کام کر دیا۔ بھاگوت کی مسلم دشمنی کا ذکر بھی انھوں نے میڈیا کے سامنے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بھاگوت نے تو اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں، اس لیے 3 بچے پیدا کرو۔ اب یہ مسلمانوں کو ہندوستان کا حصہ بتا رہے ہیں تو صرف (بیرون ملک) اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں۔ آر ایس ایس لیڈران کے بیانات میں ہمیشہ تضاد ہوتا ہے، آر ایس ایس والوں کا یہی مزاج ہے، یہ دوغلے لوگ ہیں۔‘‘
محمد ادیب نے موجودہ حالات میں راہل گاندھی کے ذریعہ بے خوفی کے ساتھ مظلوموں کی آواز اٹھانے کی بھرپور تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اکیلا ایک راہل گاندھی ہے، جو آواز اٹھا رہا ہے۔ اس نے صرف اتنا کہہ دیا کہ دلت کے ساتھ تم (حکومت) نے ناانصافی کر دی، تو اس پر ایف آئی آر ہو گئی۔ اس کارروائی پر بھی سب خاموش بیٹھے ہیں، لیکن کب تک بیٹھو گے؟‘‘ انھوں نے بی جے پی پر غلط طریقے سے حکومت بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایس آئی آر میں بڑے پیمانے پر نام کاٹ دیے گئے۔ ووٹر لسٹ سے نام کاٹ کر لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ باہر نکل جاؤ۔ یہ لوگ انتخاب میں حصہ نہیں لے پائے اور تم (بی جے پی) نے حکومت بنا لی، یہ ٹھیک ہے کیا؟‘‘
سابق رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی کارگزاریوں کو ملک مخالف ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا آخر وقت قریب آ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایسی حالت میں ہے جب شمع بجھنے والی ہو۔ جب شمع بجھنے والی ہوتی ہے تو لو تیز ہو جاتی ہے۔ ان کا بھی وقت پورا ہو چکا ہے۔‘‘ ساتھ وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’ان لوگوں نے ملک کی ترقی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ صرف جگہوں کے نام بدلنا جانتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ بڑے بڑے انسٹی ٹیوشنز ختم کر دیے گئے۔ بیشتر انسٹی ٹیوشنز میں آر ایس ایس کے لوگوں کو بیٹھا دیا گیا ہے جو نصاب بدل رہے ہیں۔ سوچنے والی بات ہے کہ سینکڑوں سال کی مغل اور اسلامی تاریخ کو غائب کیا جا رہا ہے۔‘‘ آخر میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان آر ایس ایس والوں نے گاندھی کو صرف ایک بار نہیں مارا، بلکہ روزانہ ہی یہ گاندھی کی روح کو مار رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
