ویڈیو گریب
پاکستان میں بلوچستان کے سراب ضلع پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبضہ کر لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ بی ایل اے نے اپنے دعوے میں کہا کہ ہم نے پوری طرح سے اس شہر پر اپنا اختیار حاصل کر لیا ہے اور اب بلوچ فوج پورے شہر کی نگرانی کر رہی ہے۔ پولیس تھانوں اور اسپتالوں سمیت سبھی سرکاری دفاتر پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔
Published: undefined
بی ایل اے کے ترجمان زیاند بلوچ نے میڈیا کو دیئے بیان میں کہا کہ ہمارے جنگجوؤں نے آج (30 مئی) سراب شہر پر پورا کنٹرول حاصل کر لیا اور دشمن کے سبھی فوجی، انتظامی اور مالی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر پر قبضہ کے لیے تین گھنٹے تک آپریشن چلا۔ بی ایل اے جنگجوؤں نے شہر کے سبھی اہم مقامات اور شاہراہوں پر قبضہ جما لیا۔ اس دوران پولیس اسٹیشن، ڈی سی آفس، گیسٹ ہاؤس اور بینک پر بلوچ فوج نے قبضہ کر لیا۔
Published: undefined
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن کے دوران جنگجوؤں نے لیوی اور پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس اسٹیشنوں اور ڈی سی دفتر کی حفاظتی چوکیوں سے 30 کلاشیکوو، دوسرے اسلحے اور جنگی آلات ضبط کیے گئے۔ اس کی تصاویر بھی جنگجو گروپ نے جاری کی ہے۔
Published: undefined
جنگجو گروپ نے بتایا کہ حراست میں میں لیے گئے اہلکاروں کو ان کی بلوچ شناخت کی بنیاد پر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔ بی ایل اے نے پاکستانی فوج کی تین گاڑیوں، ریاست کے گوداموں، ایک گیسٹ ہاؤس اور تین بینکوں میں آگ لگا دی۔ دو گاڑیوں کو قبضہ میں لے لیا۔
واضح رہے کہ بلوچ جنگجوؤں کا سراب پر قبضہ اسی دن ہوا جب پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیر بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں کمانڈ اور اسٹاف کالج کے دورہ پر تھا۔
Published: undefined
ڈی سی دفتر پر قبضے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ہدایت اللہ بلیدی کی موت کی خبر ہے۔ بی ایل اے ترجمان نے بتایا کہ بلیدی نے حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد اسے قابو میں کرکے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ بدقسمتی سے کمرے میں دم گھٹنے سے اس کی موت ہو گئی۔ بی ایل اے نے اسے حادثاتی واقعہ بتایا۔
Published: undefined
وہیں سراب شہر پر پوری طرح سے قابو حاصل کرنے کے علاوہ بی ایل اے نے کوئٹہ-کراجی اہم شاہراہ اور سراب-غدر شاہراہ پر چیک پوائنٹ کرکے ریاست میں ہونے والی آمد ورفت پر پابندی سخت کر دی ہے۔ گروپ نے کہا کہ جب تک بلوچستان کو آزادی نہیں مل جاتی تب تک ہماری لڑائی جاری رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined