اے آئی-سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان موزوں ترین مقام: انتونیو گوٹیرس
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ’’میں اس سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ہندوستان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اے آئی کی ترقی ہر کسی کے فائدے کے لیے ہو۔‘‘

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ہندوستان کی ستائش کرتے ہوئے ملک کو ایک انتہائی کامیاب ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی معاملات میں ہندوستان کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے اے آئی (آرٹیفیشیل انٹیلی جنس) پر ہونے والے آئندہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے ہندوستان سب سے موزوں مقام ہے۔
واضح رہے کہ ’انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے انعقاد سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران انتونیو گوٹیرس نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچنا چاہیے اور اسے صرف ترقی یافتہ ممالک یا 2 بڑی طاقتوں تک محدود مراعات نہیں بننا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان عالمی معاملات میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ رکھنے والی ایک ’انتہائی کامیاب‘ ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور اے آئی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے بہترین جگہ ہے۔
انٹرویو کے دوران انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ’’میں اس سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ہندوستان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اے آئی کی ترقی ہر کسی کے فائدے کے لیے ہو اور ’گلوبل ساؤتھ‘ کے ممالک بھی اس کے فوائد میں حصہ دار بنیں۔‘‘ واضح رہے کہ 16 سے 20 فروری تک منعقد ہونے والا یہ اعلیٰ سطحی پروگرام ’گلوبل ساؤتھ‘ میں منعقد ہونے والا پہلا ’اے آئی سمٹ‘ ہوگا، جو کہ ’عوام، سیارہ اور ترقی‘ کے 3 رہنما اصولوں پر مبنی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں دنیا بھر کے قائدین اور ٹیکنالوجی کی معروف شخصیات شرکت کریں گی۔ رپورٹس کے مطابق 20 سربراہان مملکت اور 45 ممالک کے وزارتی وفود اس اجلاس میں حصہ لیں گے۔ ان میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں، برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا سمیت کئی ممالک کے سربراہان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیک دنیا کی ممتاز شخصیات میں سندر پچائی (گوگل)، شانتنو نارائن (ایڈوبی) اور ڈاریو اموڈئی (انتھروپک) بھی اس اجلاس کا حصہ ہوں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔