دیگر ممالک

افغانستان نژاد خاتون عائشہ وہاب نے امریکہ میں رقم کی تاریخ، خصوصی ضمنی انتخاب میں حاصل کی جیت

عائشہ کا بچپن بہت ہی مشکلات میں گزرا، ان کی پیدائش کوئنز میں ہوئی تھی۔ عائشہ وہاب بچپن ہی میں یتیم ہو گئیں۔ ان کے والد کو قتل کر دیا گیا اور کچھ ہی عرصے بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

<div class="paragraphs"><p>عائشہ وہاب (ویڈیو گریب)</p></div>

عائشہ وہاب (ویڈیو گریب)

 

’پروگریسیو ڈیموکریٹ‘ عائشہ وہاب نے 21 اگست کو بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ 39 سالہ عائشہ نے کیلیفورنیا کے ایک خصوصی ضمنی انتخاب میں جیت حاصل کی ہے۔ وہ امریکی کانگریس کی پہلی افغانستان نژاد امریکی ممبر بن گئی ہیں۔ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی میلیسا ہرنینڈز کو 53.1 فیصد ووٹوں سے شکست دی ہے۔ یہ سیٹ سابق کانگریسی ایرک سویل کی تھی۔ انہوں نے جنسی بدسلوکی کے الزام کی وجہ سے اپریل میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ عائشہ جنوری تک اس عہدے پر فائز رہیں گی۔ عائشہ کو یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑی۔ آئیے جانتے ہیں ان کا اب تک کا سفر کیسا رہا۔

عائشہ کا بچپن بہت ہی مشکلات میں گزرا ہے۔ ان کی پیدائش کوئنز میں ہوئی تھی۔ عائشہ وہاب بچپن ہی میں یتیم ہو گئی تھیں۔ ان کے والد کو قتل کر دیا گیا اور کچھ ہی عرصے بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد کیلیفورنیا میں ’بے ایریا‘ کے ایک جوڑے نے انہیں گود لے لیا۔ انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ پھر ایم بی اے اور سوشل ورک میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔2011  میں انہیں ایک بار پھر مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ ان کے خاندان کا گھر ضبط ہو گیا۔ مالی مشکلات بڑھ گئیں۔ ان کے والدین کا کاروبار بند ہو گیا۔ جنہوں نے گود لیا تھا، ان کی طبیعت خراب ہونے لگی اور عائشہ کی ملازمت بھی چلی گئی۔ اپنے علاقے میں رہنے سے قاصر ہونے کے بعد عائشہ اور ان کا خاندان ہیورڈ منتقل ہو گیا۔ یہاں انہوں نے کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کرنا اور سستے مکانات کی فراہمی کے لیے آواز اٹھانا شروع کیا۔

عائشہ نے 2018 میں ہیورڈ سٹی کونسل کی نشست جیتی۔ انہوں نے سٹی کونسل میں کام کیا۔ سال 2022 میں وہ کیلیفورنیا کی اسٹیٹ لیجسلیچر کے لیے منتخب ہوئیں۔ ایسا کرنے والی وہ پہلی افغانستان نژاد امریکی اور پہلی مسلم خاتون بنیں۔ ان کی اس بڑی کامیابی کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے کھلے طور پر بائیں بازو کے ایجنڈے پر انتخابی مہم چلائی تھی۔ ان کے ایجنڈے میں سب کے لیے میڈی کیئر، ارب پتیوں پر زیادہ ٹیکس، اسٹوڈنٹ لون معاف کرنا، مضبوط سماجی پروگرام اور کارپوریٹ طاقت کو کم کرنے والی پالیسیاں شامل تھیں۔

عائشہ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے ایک ایڈوکیٹ اور آرگنائزر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ عائشہ نے کفایتی مکانات، شہری شمولیت، تعلیم اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل پر بھی کام کیا ہے۔ عائشہ پہلے الامیڈا کاؤنٹی ہیومن ریلیشنز کمیشن کی چیئر اور افغان کولیشن، ایبوڈ سروسز اور ٹرائی سٹی والنٹیئرز جیسی نان پروفٹ تنظیموں کی بورڈ ممبر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے الامیڈا کاؤنٹی پبلک ہیلتھ کمشنر اور بے ایریا ویمنز مارچ میں اسپیکر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ اس کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس راؤنڈ ٹیبل آف افغان امریکن لیڈرز میں شامل ہونے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔