دیگر ممالک

2 افریقی ممالک برکینا فاسو اور مالی نے امریکی شہریوں کے داخلے پر عائد کی پابندی

برکینا فاسو اور مالی نے کہا ہے کہ ’’سفری پابندی کا فیصلہ مساوات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ اب امریکی شہریوں کو بھی انہیں قوانین کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کے شہریوں کو امریکہ جاتے وقت کرنا پڑتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>

امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس

 

افریقی ملک برکینا فاسو اور مالی نے امریکہ کو سخت جواب دیتے ہوئے امریکی شہریوں کو اہنے یہاں داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک نے یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 39 ممالک کے شہریوں پر عائد کی گئی اسی طرح کی سفری پابندی کے احتجاج میں لیا ہے۔ اس قدم سے بین الاقوامی سطح پر سفر اور سفارتی تعلقات کے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حال ہی میں 39 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فہرست میں افریقہ اور دیگر علاقوں کے کئی ممالک شامل ہیں، جن کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔

Published: undefined

برکینا فاسو اور مالی نے کہا ہے کہ یہ قدم مساوات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ اب امریکی شہریوں کو بھی انہیں قوانین کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کے شہریوں کو امریکہ جاتے وقت کرنا پڑتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سفری پابندی والی فہرست میں ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ امریکہ اور کناڈا میں ہونا ہے، ایسے میں اس فیصلے کو لے کر کھیل اور سفر سے متعلق سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔

Published: undefined

برکینا فاسو اور مالی کی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں چاہتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے شہریوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے تو امریکی شہریوں کے لیے بھی وہی قانون نافذ ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے کہا تھا کہ برکینا فاسو میں دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ وقت تک امریکہ میں رک جاتے ہیں اور کچھ معاملوں میں اپنے شہریوں کو واپس لینے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined