خبریں

ہند-افغان تجارت بحال: ہند-پاک کشیدگی کے باعث سرحد پر پھنسے افغانستان کے ٹرکوں کو ملی داخلے کی اجازت

ہند-پاک کشیدگی کے سبب سرحد پر رکے تقریباً 50 افغان ٹرک اٹاری آئی سی پی پر پہنچ گئے۔ تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے ہند-افغان تجارت کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے

<div class="paragraphs"><p>انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ میں داخل ہوتا ٹرک</p></div>

انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ میں داخل ہوتا ٹرک

 

جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت مکمل طور پر بند ہو گیا تھا۔ لیکن جمعہ (16 مئی) سے اٹاری-واگھہ سرحد کے راستے تجارتی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو گئی ہیں۔ واضح ہو کہ اٹاری-واگھہ سرحد کے راستے تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے سے ان تاجروں کو بڑی راحت ملی ہے، جن کے لیے یہ راستہ خشک میوہ جات اور جڑی-بوٹیوں کی درآمد کا اہم ذریعہ ہے۔

Published: undefined

دراصل پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اٹاری-واگھہ سرحد کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان کی طرف واگھہ سرحد پر تقریباً 50 ٹرک پھنس گئے تھے، جو افغانستان سے خشک میوہ جات اور جڑی-بوٹیاں لے کر ہندوستان کی جانب آ رہے تھے۔ انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ (آئی سی پی) اٹاری اور محکمہ کسٹم کے افسران کے مطابق، جمعہ کو آنے والے ٹرک وہی تھے جو ہند-پاک کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی سرحد پر پھنسے ہوئے تھے۔ جمعہ کو ان میں سے 6 ٹرکوں کو اٹاری چیک پوسٹ کے راستے ہندوستان میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ ساتھ ہی ہفتہ (17 مئی) کو بھی 10 سے زائد ہندوستانی ٹرک انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری میں داخل ہوئے۔ یہ تمام ٹرک لوڈ ہو کر پھر سے ملک کی مختلف ریاستوں میں روانہ ہوں گے۔ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی رشتے دوبارہ بحال ہونے سے تاجروں میں خوشی کی لہر ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا یہ راستہ کافی اہم ہے۔ اٹاری-واگھہ سرحد ہندوستان اور افغانستان کے درمیان واحد منظور شدہ تجارتی زمینی راستہ ہے۔ ہندوستان افغانستان سے خاص طور سے خشک میوہ جات اور جڑی-بوٹیاں درآمد کرتا ہے، جو زیادہ تر قندھار اور کابل سے آتے ہیں۔ اس راستے کے بند ہونے سے نہ صرف تاجروں کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ بازار میں ان اشیاء کی دستیابی پر بھی کافی اثر پڑا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined