خبریں

‘سلطان ایردوآن’ کا ڈگمگاتا شاہی تخت:تبصرہ

ترک رہنما رجب طیب اردوآن سولہ سال سے اپنے اقتدار کو طول دیتے آئے ہیں- ایردوآن کا طرز حکمرانی ماضی کے کسی سلطان کی یاد تازہ کراتا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے دانیل دیریا کا تبصرہ

'سلطان ایردوآن' کا ڈگمگاتا شاہی تخت:تبصرہ
'سلطان ایردوآن' کا ڈگمگاتا شاہی تخت:تبصرہ 

ڈی ڈبلیو کے دانیل دیریا کے مطابق پچھلے سال سے ان کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ رجب طیب اردوآن 2003ء میں اقتدار میں آئے، تو انہیں ابتدائی طور پر ایک آزاد خیال اصلاح پسند سمجھا گیا جو ترکی کو یورپ کے قریب لانا چاہتا تھا۔ لیکن بعض حلقوں نےتب بھی متنبہ کیا کہ وہ "بھیڑوں کے لباس میں بھیڑیا" ہیں اور وقت آنے پر وہ جمہوریت اقدار کو پامال کریں گے۔

Published: undefined

دانیل دیریا کے مطابق ناقدین کے شبہات صحیح ثابت ہوئے۔ اردوآن جلد ہی جمہوریت کی ٹرین سے اُتر گئے اور انہیں جیسے ہی موقع ملا انہوں نے فوج اور عدلیہ سے اپنے سیکولر مخالفین کو چلتاکیا۔ اُس کے بعد سے وہ ایک مختلف راہ پر چل پڑے۔ ان کا راستہ ترکی کو سلطنت عثمانیہ کے دور کی طرف پیچھے کو لے گیا۔

Published: undefined

جب سے اردوآن نے ترکی کی سیاست کو ماضی کی طرف لے جانا شروع کیا انہیں کسی بھی طرف سے مخالفت کا سامنا نہ رہا اور انہوں نے بڑی مہارت سے ایک ایک کر کے اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کیا۔

Published: undefined

گیزی پارک کے عوامی مظاہروں ہوں، بدعنوانی کے اسکینڈل یا فوجی بغاوت کی کوششیں، وہ تمام رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھتے رہے۔ جون 2018ء میں انہوں نے ایک صدارتی نظام متعارف کرایا جس نے انہیں ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے خصوصی اختیارات فراہم کیے اور بالآخر ''فرد واحد کی حکمرانی وجود میں آ گئی۔‘‘ آج یہ سلطان ہزار کمروں پر مشتمل ایک نئے محل میں مسند نشیں ہیں۔

Published: undefined

اردوآن کی طاقت 2018ء کے موسم گرما سے اس وقت کمزور ہونا شروع ہوئی جب ان کی اقتصادی بدانتظامی کا اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ انہوں نے تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا تھا اور اس کے ذریعے اقربا پروری کے نظام کو مضبوط کیا۔ اس کے نتیجے میں ترکی کی معیشت بحران کا شکار ہوتی گئی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری ریکارڈ حد تک بڑھ گئی جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔

Published: undefined

مارچ کے مہینے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایردوآن کو اپنی غلط پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ چند اہم ترین شہروں میں انہیں ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا۔ انتخابات میں استنبول کی شکست ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی کیونکہ یہ شہر نہ صرف سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ ترکی کا اقتصادی مرکز بھی ہے جس کا ایک اپنا بجٹ ہوتا ہے۔

Published: undefined

کہتے ہیں کہ ترکی میں جس کے ہاتھ سے استنبول نکل گیا اُس کے لیے ملک پر حکومت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے اردوآن کسی صورت حالات کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو دباؤ ڈالا کہ وہ استنبول میں دوبارہ الیکشن کرائے۔ لیکن ایسا کر کے بھی ایردوآن کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

Published: undefined

اس الیکشن میں ان کے مخالف اکرام امام اُگلو جیت گئے۔ وہ سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان ہیں اور اب انہیں ترکی کی سیاست کے ابھرتے نئے ستارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ اس نئے سیاسی لیڈر کی عوامی مقبولیت اردوآن کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

اردوآن پر الزام ہے کہ انہوں نے ترک قوم کو تقسیم کیا۔ لیکن اب ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر حزب اختلاف کی مختلف جماعتیں اپنے تمام سیاسی اختلافات کے باوجود پہلی بار اردوآن کے خلاف صف بستہ ہو چکی ہیں۔

Published: undefined

ایردوآن کی اپنی صفوں میں بھی کھلبی نظر آتی ہے۔ تقریبا دس لاکھ ممبران پہلے ہی ان کی جماعت اے کے پی چھوڑ چکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم احمد داؤد اؤگلو ، سابق وزیر خزانہ علی باباکان یا سابق صدر عبداللہ گل جیسے ان کے پرانے ساتھی اپنی اپنی نئی جماعتیں بنا رہے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ لوگ ایردوآن کے روایتی ووٹ کو تقسیم کریں گے۔

Published: undefined

ایردوآن نے اپنے مضبوط ارادوں کے ساتھ 16 برس ترکی پر حاکمیت کی اور ایک طاقتور سلطان کے طور پر ابھرے۔ تاہم 2019 ء کے واقعات نے بظاہر سیاسی ہوا کا رخ بدل دیا ہے۔

Published: undefined

2023 ء میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے اور جدید ترکی کے قیام کو ایک صدی مکمل ہوگی۔ ایردوآن کا خواب ہے کہ وہ اس سال ''نوعثمانی دور‘‘ کی رہنمائی کرتے ہوئے اس کا آغاز کریں۔ تاہم اردوآن کا یہ خواب پورا ہونے سے بس کچھ ہی پہلے ان کا اقتدار ڈگمگاتا نظر آ رہا ہے اور اب شاید رجب طیب اردوآن کا خواب پورا نہ ہو پائے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined