چنئی کے سمندری ساحلوں پر لگائے جائیں گے نئے وائی فائی پول، ہر روز 45 منٹ مفت ملے گا انٹرنیٹ

سمندری ساحلوں پر انٹرنیٹ کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ ہے، کیونکہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں لوگ انٹرنیٹ کال کرنا، پیغامات بھیجنا، کیب بک کرنا، ڈیجیٹل ادائیگی کرنا یا اپنے خاندان سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔

وائی فائی، تصویر آئی اے این ایس
i

چنئی کے سمندری ساحلوں پر آنے والے سیاحوں کو مفت انٹرنیٹ سروس ملے گی۔ اس کے لیے گریٹر چنئی کارپوریشن شہر کے سمندری ساحلوں پر 107 نئے وائی فائی سے لیس اسمارٹ پول لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس توسیع شدہ عوامی وائی فائی کی سہولت ستمبر میں شروع ہونے کی امید ہے۔ اس کے تحت ہر صارف کو روزانہ 45 منٹ تک مفت انٹرنیٹ ملے گا۔ اس منصوبے کے تحت مرینا بیچ پر 75 نئے وائی فائی پول لگائے جائیں گے۔ بیسنت نگر میں 20 اور ترووانمیور میں 10 پول ایئرٹیل کے ذریعہ نصب کیے جائیں گے۔ ان سہولیات پر ہونے والا مکمل خرچ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ان کے ’کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی‘ یعنی سی ایس آر اقدام کے تحت پورا کیا جائے گا۔

گریٹر چنئی کارپوریشن نے 2021 میں شہر کے 49 مقامات پر وائی فائی اسمارٹ پول لگائے تھے۔ اس وقت صارفین کو او ٹی پی تصدیق کے بعد 30 منٹ تک مفت انٹرنیٹ ملتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کنیکٹیویٹی خراب ہو گئی۔ لوگوں نے شکایت کی کہ موبائل فون نیٹ ورک سے جڑ تو جاتا ہے، لیکن انٹرنیٹ نہیں چلتا ہے۔ سمندری ساحلوں پر مضبوط نیٹ ورک انٹرنیٹ کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ ہے، کیونکہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں لوگ انٹرنیٹ کال کرنا، پیغامات بھیجنا، کیب بک کرنا، ڈیجیٹل ادائیگی کرنا یا اپنے خاندان سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ نظام کو بہتر بنانے کے لیے کارپوریشن اب شہر بھر میں لگے تقریباً 2600 پرانے اسمارٹ پولز کی بھی اوورہالنگ کرے گا۔ یہ پول تقریباً 900 مقامات پر لگے ہیں، جن میں عوامی پارک، اسپتال اور سرکاری دفاتر شامل ہیں۔


انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت کریں اور بہتر کنیکٹیویٹی کو یقینی بنائیں۔ گریٹر چنئی کارپوریشن کے کمشنر جی ایس سمیرن نے بتایا کہ مرینا اور بیسنت نگر بیچ پر 38 وائی فائی پولز کی دیکھ بھال فی الحال اے سی ٹی فائبرنیٹ اور ریلائنس جیو کر رہے ہیں۔ متعلقہ نجی کمپنیوں سے عوامی وائی فائی کا دائرہ بڑھانے کو کہا گیا ہے۔ کارپوریشن نے اے سی ٹی فائبرنیٹ سے استعمال کا ڈیٹا بھی طلب کیا ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ لوگ اس سروس کا کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ نیٹ ورک کے بڑھنے کے ساتھ سائبر سیکورٹی بھی ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے عوامی نیٹ ورک پر ہیکنگ، ڈیٹا چوری اور دیگر سیکورٹی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔