’حد بندی کی شرط ختم کر دی جائے تو خواتین ریزرویشن بل فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے‘، پی چدمبرم کا کرن رجیجو کو جواب
چدمبرم نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کا التزام آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 کے تحت پہلے ہی قانون میں موجود ہے، جیسا کہ راہل گاندھی نے بھی نشاندہی کی ہے۔‘‘
.jpg?rect=0%2C0%2C3872%2C2178&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
خواتین ریزرویشن کے معاملے پر سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کے بیان پر جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجیجو غلط ہیں اور لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کا التزام قانون میں پہلے سے موجود ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کو مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے جوڑنا غیر ضروری اور جان بوجھ کر کیا گیا عمل ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین کا ریزرویشن فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے خواتین کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔
چدمبرم نے کہا کہ لوک سبھا میں خواتین کا ریزرویشن آئین (106ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 کے تحت پہلے سے قانون میں دیا گیا ہے جیسا کہ راہل گاندھی نے بھی کہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے اسے مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے جوڑ دیا۔ چدمبرم نے کہا کہ کانگریس نے 2023 میں ہی اس تعلق پر سوال اٹھایا تھا لیکن حکومت اپنے فیصلے پر اڑی رہی کیونکہ اس کے پیچھے ایک ’پوشیدہ ایجنڈا‘ تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر مردم شماری اور حلقہ بندی سے اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین کے ریزرویشن کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے کافی پہلے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے حوالے سے یہ تازہ سیاسی بحث ہفتہ کو کرن رجیجو اور راہل گاندھی کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ہونے والی بیان بازی کے بعد شروع ہوئی۔ رجیجو نے خواتین کے لیے اظہار رائے کی آزادی کے راہل گاندھی کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کانگریس کے موقف میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اب خواتین کے ریزرویشن بل کی بلا کسی شرط حمایت کرے گی۔ راہل گاندھی نے اس کے جواب میں سوال اٹھایا کہ جب خواتین کا ریزرویشن قانون 3 سال قبل اتفاق رائے سے پاس ہو چکا ہے تو اس کے نفاذ کے لیے نئی شرطیں کیوں رکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے قانون کو بغیر کسی شرط کے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی رہی ہیں، لیکن لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ہونے والی حلقہ بندیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی کے عمل سے الگ کیا جائے۔
دوسری جانب کرن رجیجو نے خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کی وجہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کو بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2026 کے بعد مردم شماری کے اعداد و شمار شائع کرنے کے عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری کی وجہ سے اعداد و شمار کو حتمی شکل دینے اور انہیں شائع کرنے میں بھی وقت لگنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اس وجہ سے خواتین کے ریزرویشن کا نفاذ کم از کم 2034 کے عام انتخابات سے پہلے مشکل ہو سکتا ہے۔
رجیجو نے مزید کہا کہ اگر 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی خواتین کا ریزرویشن نافذ کرنا ہے تو دستیاب تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کا عمل جلد شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نفاذ کا طریقہ کار ’حلقہ بندی بل 2026‘ میں تجویز کیا گیا ہے، جسے آئین میں ترمیم کے ساتھ لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق آئین (131ویں ترمیم) بل 2026 اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا، لیکن وہ لوک سبھا میں ناکام ہو گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ’ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہوا تھا۔ اس میں اسمبلیوں اور لوک سبھا میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا التزام ہے۔ حالانکہ اس کے نفاذ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ آئین (131ویں ترمیم) بل کو لوک سبھا میں موجود اور ووٹنگ کرنے والے اراکین کی ضروری 2 تہائی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور 17 اپریل کو یہ گر گیا۔ مجوزہ آئینی ترمیم میں لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کے ساتھ حلقہ بندیوں کے التزام بھی شامل تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر کانگریس اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد ہی ریزرویشن نافذ ہو سکے گا، جبکہ کانگریس کی دلیل ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو ان دونوں عمل سے الگ کر کے 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل نافذ کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کی بیان بازی کے بعد چدمبرم کے میدان میں اترنے سے خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ کانگریس کا مطالبہ صاف ہے کہ مردم شماری اور حلقہ بندی سے خواتین کے ریزرویشن کا لنک ہٹایا جائے، جبکہ حکومت موجودہ قانونی اور آئینی طریقہ کار کی بنیاد پر اس کے نفاذ کی بات کر رہی ہے۔
