’این ایچ آر سی‘ کا دہلی حکومت کو نوٹس، ایپ پر مبنی کیب اور آٹو کے من مانی کرایوں پر 2 ہفتے میں رپورٹ طلب
قومی انسانی حقوق کمیشن کو 29 جولائی کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں چلنے والی ایپ پر مبنی آٹو اور کیب کمپنیاں حکومت کے طے کردہ کرایوں سے کہیں زیادہ رقم وصول کر رہی ہیں۔

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے دہلی میں ایپ پر مبنی کیب اور آٹو رکشہ کی جانب سے من مانے اور زائد کرایوں کی وصولی کی شکایت کا نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے دہلی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کی ہے۔ این ایچ آر سی کے رکن پریانک کانوانگو کی سربراہی والی بنچ نے دہلی حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کو یہ ہدایت جاری کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ شکایت میں عائد کیے گئے الزامات سنگین ہیں اور ان کی جانچ ضروری ہے۔
کمیشن کو 29 جولائی کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی، جسے 4 اگست کو کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں چلنے والی ایپ پر مبنی آٹو اور کیب کمپنیاں حکومت کے طے کردہ کرایوں سے کہیں زیادہ رقم وصول کر رہی ہیں۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں بغیر کسی شفافیت کے سرج پرائسنگ، پلیٹ فارم فیس، ڈیمانڈ چارجز اور دیگر قسم کے چارجز شامل کر دیتی ہیں۔ دوسری طرف آٹو رکشہ ڈرائیور لازمی میٹر کا استعمال نہیں کر رہے ہیں۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر معاشی طور پر کمزور طبقے پر پڑ رہا ہے۔ شکایت کنندہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کے طے کردہ کرایے پر عمل کیا جائے، میٹر کا صحیح استعمال ہو، کرایے کے حساب کتاب میں شفافیت آئے اور مسافروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ این ایچ آر سی نے تسلیم کیا کہ شکایت میں اٹھائے گئے معاملات پہلی نظر میں متاثرین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی معلوم ہوتے ہیں۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے ایکٹ 1993 کی دفعہ 12 کے تحت کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ اسی ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت کمیشن کو سول کورٹ جیسی تحقیقاتی اختیارات حاصل ہیں۔ کمیشن نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے سکریٹری اور کمشنر کو خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ شکایت میں عائد کیے گئے الزامات کی جانچ کرائی جائے اور 2 ہفتوں کے اندر ’ایکشن ٹیکن رپورٹ‘ کمیشن کو پیش کی جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
