خبریں

ایئر انڈیا ٹربولنس معاملہ کی تحقیقات کے دوران کچھ اہم انکشافات، پوسٹ فلائٹ رپورٹ میں 80 منٹ کے اندر 13 خامیاں ظاہر!

گزشتہ ہفتہ 4 اگست کو تھائی لینڈ کے پھوکیت سے دہلی آ رہا ایئر انڈیا کا ایئربس اے 320 طیارہ شدید ’ٹربولنس‘ کا شکار ہو گیا تھا اور ہوا میں اپنی مقررہ بلندی سے اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ایئر انڈیا، تصویر آئی اے این ایس

 

ایئر انڈیا کی پھوکیت-دہلی پرواز کے دوران ’ٹربولنس‘ کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔ ’ٹربولنس‘ کے حوالہ سے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کا کہنا ہے کہ حادثہ سے متعلق تکنیکی، عملیاتی، طبی اور انسانی پہلوؤں سے جڑے تمام شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اب ذرائع کے حوالے سے جانکاری سامنے آئی ہے کہ ’پوسٹ فلائٹ رپورٹ‘ میں ہی کئی طرح کی تکنیکی دشواریاں سامنے آئی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ محض 80 منٹ کے اندر 13 فالٹ (خامیاں) درج کیے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتہ 4 اگست کو تھائی لینڈ کے پھوکیت سے دہلی آ رہا ایئر انڈیا کا ایئربس اے 320 طیارہ شدید ’ٹربولنس‘ کا شکار ہو گیا تھا اور ہوا میں اپنی مقررہ بلندی سے اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا تھا۔ اس ٹربولنس واقعہ کے بعد بھی پرواز نے معمول کے مطابق پرواز جاری رکھی اور محفوظ طریقے سے دہلی میں لینڈ کر گئی۔ اس واقعہ میں 20 مسافر اور عملہ کے 4 اراکین زخمی ہو گئے تھے۔ اس پرواز میں 3 شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر اور عملہ کے 8 افراد سوار تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پھوکیت سے دہلی آ رہی ایئر انڈیا کی پرواز میں ٹربولنس واقعہ کے بعد درج کی گئی پوسٹ فلائٹ رپورٹ میں کئی تکنیکی الرٹس سامنے آئے ہیں۔ محض 80 منٹ کے اندر 13 فالٹ درج کیے گئے، جن میں سب سے اہم واقعہ 04:02 بجے سامنے آیا، جب طیارے کے تینوں ہائیڈرولک سسٹمز گرین، بلیو اور یلو سے متعلق کم دباؤ کی وارننگ درج ہوئی۔ اسی وقت بلیو اور یلو ریزروائرز میں فلوئڈ کی سطح کم ہونے کی وارننگ بھی درج کی گئی۔ عین اسی سیکنڈ لیفٹ اور رائٹ ایلیویٹر فالٹ بھی ریکارڈ ہوا۔ یہاں تک کہ آٹو پائلٹ موڈ میں بھی خاصی دشواریاں آئیں اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ڈس کنیکٹ ہونے کی بھی بات سامنے آئی، جس کی وجہ سے پرواز کو مینوئل موڈ میں اڑانا پڑا۔

بتایا جا رہا ہے کہ مذکورہ بالا فالٹس کے ساتھ ہی کچھ دیر بعد رائٹ فارورڈ ایمرجنسی ایگزٹ ڈور کا الرٹ 2 بار اور تقریباً ایک منٹ بعد رائٹ آفٹ ایمرجنسی ایگزٹ ڈور کا الرٹ درج ہوا۔ یہ ڈور الرٹس پرواز میں اچانک آنے والے شدید جھٹکوں یا کیبن میں خلل کے دوران سینسر ایکٹیویشن سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں ابھی تحقیقات کیا جانا ہے۔ واقعہ کے تقریباً 44 منٹ بعد انجن 1 اینٹی آئس سسٹم میں فالٹ درج ہوا۔ اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آٹو پائلٹ موڈ پھر ڈس کنیکٹ ہو گیا۔

درج کیے گئے ان ریکارڈز میں سب سے سنگین بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں تینوں ہائیڈرولک سسٹمز سے متعلق وارننگز اور دونوں ایلیویٹرز کا فالٹ درج کیا گیا۔ تاہم، صرف پی ایف آر/ای سی اے ایم لاگ کی بنیاد پر یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ تمام فالٹس ایک ہی بنیادی وجہ سے ہوئے یا ان کا طیارے کی بلندی میں کمی سے براہِ راست تعلق تھا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرواز کے مرکزی پائلٹ کی تحقیقات کی رپورٹ میں نفسیاتی اثر ڈالنے والے مادّوں کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ نفسیاتی اثر ڈالنے والے مادّے ایسے کیمیائی عناصر یا ادویات ہوتی ہیں جو دماغ کی کارکردگی اور شعور پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پائلٹ کی جانچ میں گانجے، یعنی ماریجوانا کے استعمال کی تصدیق بھی ہوئی ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔