’فلائی دبئی‘ کے ساتھ پیش آیا واقعہ ’دہشت گردانہ حملہ‘ تھا، یو اے ای کا انکشاف
یو اے ای کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ عمانی شریک پائلٹ نے ہندوستانی کیپٹن اسمت مچھار پر طیارہ کے کاک پٹ میں موجود ’کریش ایکس‘ (کلہاڑی) سے حملہ کیا اور اس کے بعد فلائٹ پر کنٹرول کی کوشش کی۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ’فلائی دبئی‘ کی فلائٹ ’ایف زیڈ 1073‘ کے کاک پٹ میں ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار پر ہوئے حملے کو ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔ یو اے ای کے اٹارنی جنرل کے ذریعہ دیے گئے بیان کے مطابق عمانی شریک پائلٹ نے ہندوستانی پائلٹ پر طیارے کے کاک پٹ میں موجود ’کریش ایکس‘ (کلہاڑی) سے حملہ کیا اور اس کے بعد فلائٹ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
اٹارنی جنرل کے علاوہ یو اے ای کے سینئر سفارتی مشیر انور گرگاش کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے، جو فلائی دبئی کے ساتھ پیش آئے واقعہ کو ’دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں اس واقعہ کو ’خطرناک دہشت گردانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی پائلٹ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’’فلائی دبئی کے ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار نے ممکنہ تباہی کے سامنے بہادری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔‘‘ انہوں نے پائلٹ کے پیشہ ورانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’سچا ہیرو‘ قرار دیا۔
اس درمیان سعودی عرب کے سرکاری میڈیا ادارہ ’العربیہ‘ نے شریک پائلٹ کی شناخت عمان کے شہری حمام الحماسی کے طور پر کی ہے۔ تحقیقات سے واقف 3 دیگر افراد نے بھی ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ (اے پی) سے اس شناخت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں خلیجی خطے کے ایک سفارت کار اور ایک مغربی سفارت کار بھی شامل ہیں۔ الحماسی کی شناخت سامنے آنے کے بعد اس کے ماضی کو سمجھنے کی کوششیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندانہ نظریہ رکھنے کے شبہ میں عمان میں اسے پہلے طیارہ اڑانے سے روک دیا گیا تھا۔ بعد میں اس نے فلائی دبئی میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ فلائی دبئی میں بھرتی سے پہلے اس کی کتنی گہرائی سے جانچ کی گئی تھی اور ایئرلائن کو اس کے سابقہ ریکارڈ کے بارے میں کتنی معلومات تھیں۔ ایک علاقائی عہدیدار نے ایسو سی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ عمان ایئر میں فلائنگ ڈیوٹی سے ہٹائے جانے کے بعد الحماسی کو ایئرلائن میں انتظامی ذمہ داری دی گئی تھی۔ عہدیدار کے مطابق الحماسی کی پیدائش یو اے ای میں ہوئی تھی اور اس کی والدہ شامی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق فلائی دبئی سے پہلے الحماسی رائل ایئر ماروک میں بھی کام کر چکا تھا۔ اب اس کی آن لائن سرگرمیوں کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لیا گیا ہے۔ ایسو سی ایٹیڈ پریس کے مطابق اس سے متعلق سمجھا جانے والا ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ فلائٹ والے دن تک فعال تھا اور بعد میں اسے حذف کر دیا گیا۔ حمام الحماسی کے نام سے موجود ایک ’لنکڈ اِن‘ پروفائل بھی اب ہٹا دیا گیا ہے۔ اس پروفائل کے مطابق اس نے عمان ایئر میں 7 سال تک کام کیا اور جون 2025 میں رائل ایئر ماروک میں شمولیت اختیار کی۔ اس نے جنوری 2026 میں مراکش کی اس ایئرلائن کو چھوڑ دیا تھا۔ تاہم پروفائل میں فلائی دبئی کا ذکر نہیں تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی میڈیا اداروں نے آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ پروفائل 30 ستمبر کے واقعہ میں شامل شریک پائلٹ کا ہی تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
