’مینڈیٹ دوسروں کو ڈرانے اور دھمکانے کا لائسنس نہیں‘، سپریم کورٹ نے پھٹکار لگاتے ہوئے کارپوریٹر کی ضمانت رد کی
جولائی 2026 میں کلیان ڈومبی ولی میونسپل کارپوریشن کے منتخب کارپوریٹر رمیش سوکیا مہاترے نے 3 دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر لیبر وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود 3 ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔

سپریم کورٹ نے آج ایک معاملہ پر سماعت کے دوران کہا کہ منتخب نمائندے پولیس، ایڈمنسٹریٹر یا عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ عوام سے ملنے والا مینڈیٹ ذاتی اختیار یا دوسروں کو حکم دینے، ڈرانے دھمکانے کی بے لگام طاقت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کلیان ڈومبی ولی میونسپل کارپوریشن کے ایک کارپوریٹر اور 3 دیگر افراد کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
کارپوریٹر اور 3 دیگر لوگوں پر میونسپل اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے ساتھ مار پیٹ کرنے کا الزام تھا۔ بنچ نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ کے ذریعے طاقت ملتی ہے، لیکن اس طاقت کا استعمال بھی قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ جولائی 2026 میں کلیان ڈومبی ولی میونسپل کارپوریشن کے منتخب کارپوریٹر رمیش سکریا مہاترے سے متعلق ہے، جنھوں نے 3 دیگر افراد کے ساتھ مل کر لیبر وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود 3 ڈاکٹروں کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں گالیاں دیں۔ یہ واقعہ لیبر پین سے گزر رہی ایک حاملہ مریضہ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کو لے کر ہوئے تنازعہ کے سبب پیش آیا تھا۔
مہاترے کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے جب منتخب عہدوں پر فائز لوگ عوام سے ملنے والے مینڈیٹ کو اپنی ذاتی طاقت کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں اور دوسروں کو حکم دینے، ڈرانے دھمکانے یا اپنی مرضی مسلط کرنے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ منتخب نمائندے کی ذمہ داری عوام کی خدمت کرنا اور ان اداروں کو مضبوط کرنا ہے جن کے ذریعہ شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے اور انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسا نمائندہ پولیس، ایڈمنسٹریٹر یا عدالت کا کردار اختیار کر کے ان اداروں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بنچ نے مزید کہا کہ خوف یا دھمکی دکھا کر اپنی بات منوانے کے لیے ذاتی اثر و رسوخ کا استعمال کرنے کے نتائج صرف اس شخص تک محدود نہیں رہتے جس پر اس کا اثر پڑا ہے، بلکہ اس سے قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بھی کم ہو سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
