عام آدمی پارٹی کی قومی ترجمان پرینکا ککڑ سمیت 3 رہنماؤں نے تھاما کانگریس کا ہاتھ

راجیہ سبھا رکن نصیر حسین نے کہا کہ ’’آج لداخ سے کنیا کماری تک لوگ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پرینکا ککڑ سمیت 3 لیڈران کانگریس میں شامل (ویڈیو گریب)</p></div>
i

عام آدمی پارٹی کی قومی ترجمان، اترپردیش کے سابق وزیر اور متھرا کے مانٹ حلقہ اسمبلی سے 8 بار رکن اسمبلی رہے شیام سندر شرما اور سینئر صحافی رجت ٹنڈن نے کانگریس کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ تینوں لیڈران کی شمولیت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پارٹی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس پارٹی کی نظریاتی فکر سے متاثر ہو کر آج عام آدمی پارٹی کی رہنما پرینکا ککڑ کانگریس میں شامل ہوئی ہیں۔ ان کے ساتھ رجت راکیش ٹنڈن اور سابق رکن اسمبلی شیام سندر شرما بھی کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔ آپ سب کو مبارکباد اور مستقبل کے لیے دلی نیک خواہشات۔‘‘ اس موقع پر دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو، راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا، راجیو شکلا اور نصیر حسین مجود رہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجیہ سبھا رکن نصیر حسین نے کہا کہ ’’آج 3 اہم شخصیات کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہی ہیں۔ پرینکا ککڑ جو عام آدمی پارٹی کی سابق چیف قومی ترجمان اور سپریم کورٹ کی سینئر وکیل ہیں۔ شیام سندر شرما، اتر پردیش سے سابق رکن اسمبلی ہیں۔ رجت راکیش ٹنڈن، مجاہد آزادی پرشوتم داس ٹنڈن کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں 20 سال سے زیادہ صحافت کا تجربہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آج لداخ سے کنیا کماری تک لوگ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہم کھلے دل سے سب کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘


راجیہ سبھا رکن راجیو شکلا نے کہا کہ ’’ آج بہت خوشی کا دن ہے۔ ہمارے ساتھ شیام سندر شرما ہیں، جو اتر پردیش میں کافی بااثر رہنما ہیں۔ شرما جی 8 بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور ماضی میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ پرینکا ککڑ اور رجت راکیش پانڈے بھی کانگریس پارٹی سے وابستہ ہو رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ان سب کے ساتھ آنے سے اتر پردیش اور ملک کی سیاست پر بہت اثر پڑے گا۔‘‘ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد شیام سندر شرما نے کہا کہ ’’سیاست کا مطلب ہے محنت، خودمختاری، عزم اور عہد کی پابندی۔ یہ سوچ صرف کانگریس پارٹی کے اندر ہے۔ دیگر پارٹیاں ذات پات اور مذہب کی سیاست کی بات کرتی ہیں، لیکن کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ کانگریس ہمیشہ انسانیت کے لیے وقف رہی ہے۔ اسی لیے آج میں نے کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

کانگریس میں شامل ہونے کے بعد پرینکا ککڑ نے کہا کہ ’’میں آج بے حد فخر کے ساتھ کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہی ہوں کیونکہ میں وہ دہلی واپس چاہتی ہوں جہاں میں پلی بڑھی ہوں۔ میں وہ سرسبز، صاف ستھری، ترقی پسند اور محفوظ دہلی چاہتی ہوں، جو میری پرورش کے دور کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ ہندوستانی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ کے تجربے کے بعد، مجھے واقعی یقین ہے کہ صرف کانگریس ہی ایسا کر سکتی ہے۔ اگر کوئی حقیقی رہنما ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم سب متحد ہوں۔‘‘


عام آدمی پارٹی کو چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے پرینکا ککڑ نے کہا کہ ’’میں نے عام آدمی پارٹی اس لیے چھوڑی، کیونکہ یہ وہی پارٹی ہے جس نے عوام سے کہا تھا کہ ہم بنگلہ اور گاڑی نہیں لیں گے، لیکن بعد میں ذاتی سفر کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جانے لگے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی آج ’ووٹ چوری‘ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہم سب کو بتایا کہ عوام کا ووٹ چرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو دکھایا کہ گیانیش کمار ’ووٹ چوری‘ کر کے نریندر مودی کی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ آج اس موقع پر میں ان تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جنہوں نے مجھے اپنے خاندان کا حصہ بنایا۔‘‘

سینئر صحافی رجت راکیش ٹنڈن نے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد کہا کہ ’’ کانگریس پارٹی سے میرے خاندان کا پرانا تعلق رہا ہے۔ ان کی سوچ اور سمجھ کانگریس پارٹی کے ساتھ تھی۔ بطور صحافی میں نے طویل عرصے تک کانگریس پارٹی کو کور کیا ہے اور اس دوران میں نے دیکھا کہ یہ ایک ایسی پارٹی ہے، جس میں آپ کی بات سنی جاتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آج ملک کا نوجوان پریشان ہے، سڑکوں پر ہے، لیکن اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر کسی نے نوجوانوں کے لیے آواز اٹھائی ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔ کئی لوگ دب گئے، کئی لوگ خاموش ہو گئے، لیکن صرف ایک شخص جو مضبوطی سے کھڑا رہا، وہ راہل گاندھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہا ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔