خبریں

اقوام متحدہ میں پاکستان نے اٹھایا رام مندر ایشو، اور پھر اچانک...

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے جموں و کشمیر، بابری مسجد انہدام اور ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر تبصرہ کیا تھا جس کی ہندوستان نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ایک طرف پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور دوسری طرف کشمیر میں لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی بار عالمی اسٹیج پر ہندوستان نے پاکستان کو اس کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن پاکستان کبھی ہندوستان کے اندرونی معاملوں کو اٹھا کر بچنے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ ایک بار پھر کچھ ایسا ہی معاملہ اقوام متحدہ میں دیکھنے کو ملا جب پاکستانی سفیر نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن اس کے بعد ہندوستان نے بھی پاکستان کو بھرپور جواب دیا۔ پہلے تو ہندوستانی نمائندہ نے پاکستان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے ملک میں اور سرحد کے پار 'تشدد کے کلچر' کو فروغ دیا ہے، اور پھر مذہبی اقلیتوں کو لے کر پاکستان کے رویہ کو بھی سب کے سامنے رکھ دیا۔

Published: 11 Sep 2020, 7:11 PM IST

دراصل اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی کونسلر پاؤلومی ترپاٹھی جمعرات کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں 'امن کا کلچر' موضوع پر ایک پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔ اسی دوران انھوں نے کہا کہ "بدقسمتی سے ہم نے پاکستان کے نمائندہ وفد کے ذریعہ اقوام متحدہ کے اسٹیج کا استعمال ہندوستان کے خلاف نفرت آمیز تقریر کرنے کی ایک اور کوشش کو دیکھا۔" ترپاٹھی نے کہا کہ "یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنے ملک میں اور سرحد پار تشدد کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے۔"

Published: 11 Sep 2020, 7:11 PM IST

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے جموں و کشمیر، بابری مسجد انہدام اور ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر تبصرہ کیا تھا جس کی ہندوستان نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ترپاٹھی نے واضح لفظوں میں کہا کہ "پاکستان میں حقوق انسانی کے خراب ریکارڈ اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق آمیز رویہ عالمی طبقہ کے لیے لگاتار فکر کا موضوع بنا ہوا ہے۔" ساتھ ہی ترپاٹھی نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کی حالت خاص طور پر بہت خراب ہے کیونکہ ان کا اغوا کیا جاتا ہے، عصمت دری ہوتی ہے اور ان کا مذہب تبدیل کر کے زانیوں سے اس کی جبراً شادی کرا دی جاتی ہے۔"

Published: 11 Sep 2020, 7:11 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 11 Sep 2020, 7:11 PM IST